پیر. اگست 8th, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال ٹاؤن کے نواحی گاؤں سین کے رہائشی شمس الرحمن، حاجی محمد اکبر خان، محمد ظفر خان، وزیر خان، جمال الدین، دردانہ شاہ، ادینہ شاہ، حجیب الرحمن، اعجاز احمد و دیگرنے ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی کی ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف چترال کے لئے ان کی زرعی زمینات لے کر انہیں بے گھر نہ کیا جائے جبکہ اس مقصد کے لئے اسپاغ لشٹ کے مقام پر پہلے ہی 166کنال زمین لیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجوزہ زمین 350 گھرانوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس زمین کو ریاستی طاقت اور زور زبردستی سے یونیورسٹی کے لئے حاصل کرنے کا مطلب انہیں بے گھر کرکے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے جسے وہ کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں پہلے ہی زرعی زمین کی قلت ہے اور بارے میں عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے کہ زرعی اراضی پر سرکاری بلڈنگ نہیں بنائے جاسکتے جس کی روشنی میں سین میں یونیورسٹی کے لئے زمین کا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت جبری حصول عدالت کی حکم عدولی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان تین سو پچاس گھرانوں کا زیادہ تر بسر اوقات ان زرعی زمینات پر ہے جہاں یہ اناج اور سبزی اور حیوانات کے لئے چارہ کاشت کرتے ہیں اور ان سے محرومی کی صورت میں ان گھرانوں کے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد غذائی قلت کا بھی شکار ہوں گے اور انہیں زندگی بھر فاقوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ سین کے عوام نے پہلے ہی سرکار کو زرعی تحقیقی اسٹیشن، ٹیکنیکل کالج اور گرم چشمہ روڈ کے لئے زمین دے چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس زرعی زمین کی مقدار پہلے ہی کم رہ گئی ہے اور اب یونیورسٹی کے لئے زمین دینے کے متحمل ہرگز نہیں ہو سکتے۔ مولانا عبدالاکبرچترالی نے اہالیان سین کے موقف کی مکمل حمایت اور تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ان کو بے گھر کرکے یونیورسٹی قائم کرنا کسی بھی طرح انصاف نہیں ہے جبکہ اس مقصد کے لئے زمین پہلے ہی لی جاچکی ہے جوکہ ایک آئیڈیل مقام پر واقع ہرقسم کی قدرتی آفات سے بھی محفوظ ہے۔ انہوں نے ہر فورم پر اہالیان سین کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔