جمعرات. جون 30th, 2022

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال نرسز فورم کا ایک اہم اجلاس حکیم شاہ ڈائیریکٹر نرسنگ انڈس ہسپتال کراچی کی سربراہی میں پشاور میں منعقد ہواجس میں پشاور میں مقیم نرسز بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نرسنگ پیشے کی عظمت و اہمیت پر روشنی ڈالی اور چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز کی خدمت کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال سے تعلق رکھنے والے نرسز پورے پاکستان میں بہتریں خدماتِ سرانجام دے رہے ہیں ان سارے نرسز کو ایک پیلٹ فارم میں جمع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے چترال نرسز فورم کے پریذیڈنٹ اور تمام ٹیم کی کاوشوں کوسراہا کہ ان کی بدولت چترالی نرسز ایک پیج پر ہیں۔
اس موقع پر پریذیڈنٹ چترال نرسز فورم ناصر علی شاہ نے چترال نرسز فورم بنانے کی وجوہات اور ضرورت کے بارے میں شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک اس پلیٹ فارم سے چترال سے تعلق رکھنے والے 6 غریب مریضوں کے لئے ڈونیشن لے کر مدد کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نرسز ہر ایک مریض کے کام آتے ہیں مگر ہمارا کام کسی کو نظر نہیں آتا حالانکہ تکلیف و درد میں مریض کو سکون و اطمینان پہنچانے میں اہم کردار نرس کا ہوتا ہے۔انہوں نے فورم کے اندر ایگزیکٹیو کمیٹی بنانے اور مستقبل میں فورم کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے لیگل ایڈوائزر چترال نرسز فورم شاہد علی خان یفتالی نے کوٹہ کیس میں کامیابی پر شرکاء کو مبارک دی اور کہا کہ یہ اس فورم کی طرف سے نوجوانوں کو بہت بڑا تحفہ ہے کیونکہ پرونشل ہیلتھ سروسز اکیڈمی کی طرف سے تمام اضلاع کو محدود نرسنگ نشست دی گئی تھی تمام اضلاع کیساتھ ضلع چترال کو بھی 7 سیٹ دی گئی تھی جو زیادتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ چترال نرسز فورم کے صدر اور ہم دونوں نے ملکر کیس داخل کیااور کافی محنت کے بعد کوٹہ سسٹم کو تبدیل کروا کر اوپن میرٹ رکھوانے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال 7 نرسنگ سٹوڈنٹ کے بجائے 86 نرسنگ سٹوڈنٹس داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے۔
اس موقع پر پرنسپل فرخندہ نرسنگ کالج جفریاد شیر حسین نے چترال نرسز فورم کی جانب سے اپنے ممبرز اور عوام کے لیے کی جانے والی خدماتِ کو سراہتے ہوئے کہا کہ یقینا نرسز کو بے تحاشہ چلنجز درکار ہیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لئے اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے
میٹنگ کے آخر میں ایگزیکٹیو کونسل بنانے، ممبر سازی مہم تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا اور میٹنگ میں شامل ممبران کو ایگزیکٹیو کمیٹی میں شامل کیا گیا اور مزید نام شامل کرنے کے لیے پریزیڈنٹ سی این ایف ناصر علی شاہ اور جنرل سیکرٹری پرنسپل ایس ایچ ایس پشاور آفتاب احمد خان کو ٹاسک دی گئی۔