بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال(بشیرحسین آزاد)چترال کے سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیمات نے لواری ٹنل سے بھاری ٹرکوں کے گزرنے پر پابندی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو اگر ختم نہ کیا گیا تو اسکے خلاف بھرپور احتجاج شروع کیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز چترال میں آل پارٹیز اجلاس جمعیت علماء اسلام ضلع چترال لوئر کے ضلعی امیر مولانا عبدالرحمن کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جماعت اسلامی کے امیر اخونزادہ رحمت اللہ، پاکستان تحریک انصاف کے صدر سجاد احمدخان، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر الحاج عیدالحسین، پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر نائب صدر شریف حسین، مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری حاجی صفت زرین اور ایڈوکیٹ محمد کوثر، تجار یونین کے سینئر نائب صدر حافظ اظہر اقبال اور ڈرائیور یونین کے صدر محمد صابر سمیت دیگرعمائدین نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ایک نکاتی ایجنڈے ”لواری ٹنل سے بڑی ٹرکوں پر پابندی“ کے حوالے سے مشاورت کے لئے طلب کیا گیا تھا۔
شرکاء اجلاس نے اس ضمن میں تفصیلی گفتگو کی اور اس فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دیا۔اجلاس میں ٹنل کے روڈ کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے رپورٹ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں منظور کئے گئے قرارداد کے ذریعے این ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ اپر دیر کی طرف سے بڑے ٹرکوں کی سامان لانے پر پابندی کو مسترد کیا گیا اور مرکزی وصوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر اس غیر دانشمندانہ فیصلے کو واپس لیا جائے کیونکہ اس فیصلے عوام پر بوجھ پڑرہا ہے، بصورت دیگر اس عوامی مسئلے کے لئے بھر پور احتجاج سے دریغ نہیں کی جائیگا۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ ٹنل کی سڑک کو نقصان پہنچنے کے حوالے سے رپورٹ کی انکوائری کی جائے کیونکہ این ایچ اے و سامبو کمپنی کی غفلت اور لا پرواہی سے غیر معیاری کام ہوا ہے، انکوائری کرکے ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دیجائے۔