بدھ. ستمبر 28th, 2022

چترال(بشیر حسین آزد)پاکستان تحریک انصاف کے سنیئر راہنما عبدالطیف نے چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چترال کی تاریخ میں جو ریکاڈ تر قیا تی کا م شروع کئے گئے ہیں اس میں تحریک انصاف کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ معاؤن خصوصی وزیر زادہ کا کر دار مسلمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر زادہ پر انگلیاں اُٹھا کر بعض سیا سی بو نے اپنا سیا سی قد بڑھا نے کی کو شش کر رہے ہیں حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ وزیرزادہ کی خدمات اب تک کے تمام منتخب نمائندوں سے مجموعی طور پر بھاری ہیں۔پارٹی کے دیگر راہنماوں الطاف گوہر ایڈوکیٹ،شفیق الرحمن صدر یوتھ،نذیر احمدایڈیشنل جنرل سیکرٹری یوتھ ملاکنڈڈویژن،سردار ایوبی صدر آئی ایس ایف،سجاد سینئر رہنما پی ٹی آئی،رضی الدین سابق تحصیل صدر،ایاز الدین سابق یوسی صدر کوہ،سمیع الدین صدر لیبر ونگ چترال کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالطیف نے کہا کہ اعلیٰ ظر فی کا تقا ضا تو یہ ہے کہ تما م سیا سی جما عتیں وزیر زادہ کا شکر یہ ادا کریں جو انکی نا اہلی اور نا کا میوں پر پردہ ڈالنے کی بہترین کوشش کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ مخصوص نشست پر صو با ئی اسمبلی اور کا بینہ کا حصہ بننے والے اسی نو جوان کو صرف کا لا ش ویلی تک محدو د رہنے کا مشورہ دینے والے سیاسی یتیموں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کا لا ش ویلی روڈ جیسے عظیم منصوبے کے علا وہ وزیر زادہ نے تینوں کا لا ش ویلیز میں صحت، تعلیم، روڈ،حفاضتی بندوں اور دوسرے منصو بوں میں اب تک 325.4ملین روپے کے منصو بے یا تو مکمل ہو چکے ہیں یا تکمیل کے مرا حل میں ہیں جن میں بریر کے 425لا کھ، ایون یو سی کے 99لا کھ، بمبوریت کے 899لا کھ اور رومبور وادی کے 1831لا کھ روپے کے مختلف منصو بے شامل ہیں جبکہ 30کروڑ روپے کی لا گت سے وادی کی سڑ کوں کی توسیع کا منصو بہ اس کے علا وہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہٹ دھرمی اور تنگ نظری کا کوئی علاج نہیں ورنہ وہ وزیرزادہ کے خلاف ایسے الفاظ استعمال نہ کرتے حالانکہ گزشتہ حکومتوں نے چترالی عوام کو لو لی پاپ دئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویز زادہ اگر اپنی محنت اور کوششوں سے کا لا ش ویلی روڈ کی زمین کی خریداری کے لئے 2ارب روپے کی خطیر رقم صو بائی حکومت سے منظورنہ کراتے تو یہ روڈ آئند ہ دس سا لوں میں بھی شروع نہیں ہو سکتا تھا اب جبکہ روڈکا ٹھیکہ بھی ایوارڈ ہو چکا ہے تو انگلی کٹا کر شہید وں میں نا م لکھوا نے کا ڈرامہ نہیں چلے گا اور وزیر زادہ اگر کا لا ش ویلی تک محدود ہوتے تو نہ شندو ر وڈ کے 17ارب روپے منظور ہوتے نہ گرم چشمہ روڈ پی ایس ڈی پی کا حصہ ہوتا اور نہ ہی مداک لشٹ کی تر قی کے لئے 4.8ارب روپے منظور ہو تے۔ انہوں نے کہا کہ اب اندازہ ہو چکا ہے کہ وزیر زادہ جس جا ن فشانی سے اپر اور لو ئیر چترال میں عوام کی خدمت کر رہے ہیں یہ اسی بات کا پیش خیمہ ہے کہ آئندہ انتخا بات ہیں مخالفین کا سفر ختم ہو گا اور ان کی ضما نتیں ضبط ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ورکرزاور وزیر زادہ عوامی خد مت کا اپنا سفر نہ صر ف جاری رکھیں گے بلکہ اس میں آنے والے وقت میں مزید تیزی آئیگی۔ وزیر اعلیٰ محمود خا ن کے دورے کے بعد سیا سی مخا لفین کے بخار میں اضا فہ قدرتی امر ہے۔اُنہوں نے مخالفین کو مناظرے کا چیلنچ دیتے ہوئے کہا کہ اگرکوئی پی ٹی آئی کی حکومت سے زیادہ ترقیاتی کام چترال میں دکھائیں تو ہم سیاست سے مستعفی ہونگے۔اُنہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اپر اورلوئر چترال کی قیادت اورٹائیگر وزیرزادہ کے ساتھ ہے اور اُن کی چترال کے لئے خدمات اورکارکردگی سے مطمئن ہیں۔