بدھ. ستمبر 28th, 2022


چترال (محکم الدین) وزیر اعلی خیبر پختونخواہ محمود خان اپنے دورہ چترال کے موقع پر چترال میں خطاب کرتیہوئے کہا ہے کہ سیاسی مخالفین موجودہ حکومت کی ناکامی کی بات کر رہے ہیں۔ جبکہ اس ملک کو دو سیاسی پاٹیوں باری باری 70سالوں تک لوٹا اور اسے کوئی نظام نہ دے سکے۔ ایسے میں ملک پر سخت حالات تو آنے تھے۔ اس کے باوجود ہم عوام کی بہبود کیلئے وہ کام کر رہیہیں۔ جو کسی اور کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان نالائقوں نے گھر انگلینڈ میں بنائے مگر حکومت پاکستان پر کی۔ انہوں نے کہا کہ عوام ان کی کرپشن کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہم نے 17 کروڑ روپے پر ایک کلو میٹر موٹر وے بنائی جبکہ سابق چوروں نے ایک کلومیٹر پر 37 کروڑ روپے خرچ کئے۔ انہوں نے کہا کہ قوموں پر سخت حالات آتے ہیں اور ہم آپ کی مشکلات جانتے ہیں،بہت جلد حالات بہترہوں گے۔ ہم عوام کی سہولت کی خاطر فوڈ سکیورٹی پالیسی بنا رہے ہیں۔ بنجر آراضی قابل کاشت بنانے کیلئے آبپاشی کا نظام کو بہتر بنا رہے ہیں۔صحت کارڈ، کسان کارڈ متعارف کر چکے ہیں۔ اسی طرح ایجوکیشن کارڈ، فوڈ سکیورٹی کارڈ کا اجرا کر رہے ہیں۔ جس سے غریبوں کو سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں کوئی خان، ملک یا جاگیردار نہیں ہوں، مجھے غریبوں کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے۔ انہو ں نے کہا کہ میری سابقہ حکومت کے دور سے چترال کے ساتھ گہری وابستگی ہے اور میں یہاں کے مسائل کو جانتا ہوں۔ اس لئے میں نے دل کھول کر چترال کے منصوبوں کیلئے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ بعض لوگ میرے اعلانات پر کہتے ہیں کہ وزیر اعلی اربوں کا جو اعلان کرتے ہیں یہ فنڈ کہاں سے لے آئیں گے، میں وہ چیف منسٹرہوں کہ جو اعلان کرتا ہوں اس کیلئے فنڈ مہیا کرتا ہوں۔ زبانی جمع خرچ نہیں کرتا۔ انہوں نے کہاکہ چترال مستقبل میں کاروباری حب بنے گا۔ اس کے وسطی ایشیا سے لنک ہونے کے بہت آسان راستے ہیں۔ وزیر اعلی نے چترال اکنامک زون کو صوبے کا بڑا منصوبہ قرار دیا۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے کئی منصوبوں کا اعلان کیاجن میں سپورٹس کمپلیکس، دروش گرم چشمہ کالجز چترال چلڈرن ہسپتال، نہر غوچھار کوہ، گرم چشمہ روڈ، چترال شندور روڈ، دروش تحصیل سٹیڈیم، میڈیاکالونی، دروش بائی پاس روڈ، آرندو روڈ شامل ہیں۔ انہوں سٹلمنٹ ملازمین کو مستقل کرنے اور ملازمین کے فائر ووڈ الاونس 100 روپے فی من کرنے کا بھی اعلان کیا۔وزیر اعلی نے ملاکنڈ ڈویژن کو دو ڈویژن بنانے کا بھی اعلان کیا۔ وزیر اعلی نے اس موقع پر متعدد منصوبوں کا بھی افتتاح کیا۔جن میں کلکٹک چترال روڈ 290 ملین، دنین بائی پاس روڈ 498 ملین، کالاش ویلی روڈ 46کلومیٹر 2۔4 بلین، ایون کالاش ویلی پل 82 ملین، ہون روڈ 30 ملین، بیوٹفیکیشن چترال 280ملین، کریم آباد روڈ 100 ملین، ریسکیو 1122 بلاک 64 ملین، بی ایس بلاک ڈگری کالج 89 ملین، ریوینیو ریکارڈ روم اور اکنامک زون شامل ہیں۔ قبل ازین وزیراعلی جب جلسہ گاہ پہنچے۔ تو ان کو چوغے اور ٹوپی پہنائے گئے۔ وزیراعلی کے ہمراہ ایم پی اے فضل حکیم خان معاون خصوصی وزیر زادہ سنیٹر فلک ناز و دیگر مہمان موجود تھے۔ وزیر اعلی کو پی ٹی آئی کے رہنما اسرار صبور نے سپاسنامہ پیش کیا۔ قبل ازین وزیر اعلی صبح چترال پہنچ کر سینگور پل کا افتتاح کیا۔ جس پر 70 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے۔