192

ایم این اے فنڈ سے سینگور لنک روڈ کی پختگی کے منصوبے پر کام کا آغاز

چترال(گل حماد فاروقی)بڑی دیر کی مہربان آتے آتے۔ چترال کے مضافاتی علاقے سینگور کی سڑک پر بالآخر بلیک ٹاپنگ کا کام شروع ہوا۔اس سڑک پر تین دہائیوں کے بعد کوئی تعمیراتی کام ہورہا ہے۔ اس سڑک کی پختگی پر علاقے کے لوگ نہایت خوش ہیں۔ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اخونزادہ رحمت اللہ، وجیہ الدین وغیرہ نے رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس سڑک کی بلیک ٹاپنگ کیلئے ایک کروڑ روپے کا فنڈ فراہم کرایا۔ اس سڑک کی پختگی کے بعد سینگور، شاہ میراندہ، سینجان وغیرہ کے دیہات کے لوگوں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگا کیونکہ بادوباراں اور برف باری کی صورت میں اس سڑک پر علاقے کے خواتین اور بچوں کا گزرنا نہایت مشکل تھا۔محکمہ پاکستان پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے انجینئر ارشد علی خان نے یقین دہائی کرائی کہ اس کام کے معیار اور مقدار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اس سڑک پر جب تارکول کا کام شروع ہوا تو علاقے کے چھوٹے بڑے سب خوشی سے جھوم اٹھے اور اس پر نہایت خوشی کا اظہار کررہے ہیں کیونکہ اس کا افتتاح رکن قومی اسمبلی عبد الاکبر چترالی نے 4 جولائی 2021 کو کیا تھا۔مقامی لوگ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سڑک کے کنارے نکاسی آب کیلئے نالہ بھی بنایا جائے تاکہ آس پاس کھیتوں سے آنے والا پانی سڑک پر نہ بہے کیونکہ چترال میں زیادہ تر سڑکیں اس وجہ سے خراب ہورہی ہے کہ کھیتوں سے بہنے والا پانی سڑک کے اوپر سے گزرتا ہے جس سے پختہ سڑکیں چند ماہ میں خراب ہوتی ہے۔
؎واضح رہے کہ چترال میں سڑکوں کی حالت نہایت خراب ہے جس کا ذکرچیف جسٹس آف پاکستان اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے بھی کیا تھا اور انہوں نے اس کا از خود نوٹس بھی لیا تھا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت کیلئے فنڈ فراہم کرنا نہایت احسن قدم ہے جس سے علاقے کے لوگوں کو سفری مشکلات میں کمی آئے گی۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر صوبائی اور وفاقی حکومت اور مواصلاتی اداروں سے ارباب اختیار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سڑکوں کی تعمیر کے وقت ان کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ اس میں کسی قسم کی ناقص یا غیر معیاری میٹریل استعمال نہ ہوکیونکہ حکومت کی جانب سے فنڈ توخرچ ہوتا ہے مگر صحیح نگرانی نہ کرنے کی وجہ سے اکثر کام غیر معیاری ہوتا ہے جس کے نتیجے میں یہ سڑکیں سال کے اندر ہی خراب ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔