69

گرم چشمہ کا رابطہ ملک بھر سے کٹ گیا، پل ٹوٹنے کا ذمہ دار کون؟

چترال (چ،پ) گرم چشمہ اور ملحقہ علاقہ جات کو ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والا واحد پل ٹوٹنے کے بعد علاقے کا رابطہ ملک کے دیگر علاقوں کیساتھ کٹ چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گرم چشمہ کے قریب مشہور ”چمور پل“ گذشتہ روز ٹرک اور اس پر لدے ہوئے مال کا وزن بردداشت نہ کرتے ہوئے ٹوٹ گیا جس سے ٹرک لدے ہوئے آلوؤں سمیت دریا میں گر گیا۔ اس واقعے کے بعد گرم چشمہ اور ملحقہ علاقہ جات کا رابطہ ملک کے دیگر علاقوں کیساتھ کٹ چکا ہے۔ اس پل کے ٹوٹنے کے حوالے سے کئی چیزوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ گرم چشمہ ایک انتہائی حساس اور سرحدی علاقہ ہے، سیاحتی اعتبار سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کے دلچسپ نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لئے آتے ہیں، کاروباری لحاظ سے اس علاقے سے ملک کے مختلف علاقوں کو سبزی بالخصوص آلو اور مٹر بھیجے جاتے ہیں جنکی مالیت کروڑوں روپے کی ہے۔ اس وقت آلو کا سیزن ہے اور کروڑوں روپے کی تیار فصل یہاں سے منتقل کرنے کے لئے بالکل تیار ہے۔ لیکن اتنے اہم علاقے کو ملک کے دیگر علاقوں سے منسلک کرنے والے واحد پل کی یہ حالت کیونکر رہی، موجودہ وقت میں اس پل پر اتنے بھاری وزن کے ساتھ گاڑیوں کو گزرنے دینے کے پیچھے ادارے کی غفلت، متعلقہ ذمہ داران کی نا اہلی شامل ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس غفلت اور لاپرواہی کا سخت نوٹس لیں نیز دفاع پاکستان سے منسلک ادارے بھی اس جانب توجہ دیں کیونکہ اتنے اہم علاقے میں ایسے کمزور اورو مخدوش پل کی موجودگی لمحہ فکریہ اور خطرے سے خالی نہیں۔ اس سلسلے میں ذمہ داروں کا تعین کرکے انکے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، اتنے مخدوش پل سے بھاری وزن کے ہمراہ گاڑیوں کی اجازت کس نے دی؟ پل کی حالت بہتر بنانے کے حوالے سے سرکاری افراد نے غفلت کا مظاہرہ کیونکر کیا؟ ادارے کے کسی ذمہ دار شخص نے اس اہم پل کی حالت زار کا جائزہ لینے کی زحمت کیوں نہیں کی؟