91

با اثر شخصیت کو فائدہ پہنچانے کیلئے یورجوغ میں آبپاشی نہر کی تعمیر نا قابل قبول ہے، مقامی لوگ بری طرح متاثر ہونگے/عمائدین یورجوغ


چترال(بشیر حسین آزاد) گرم چشمہ کے نواحی گاؤں یورجوغ کے باشندوں نے کہا ہے کہ اگر انصاف کا علمبردار پی ٹی آئی حکومت نے اپنے ایک چہیتے کو چار کروڑ روپے کی خطیر رقم سے آبپاشی کا منصوبہ دینے اور دو سو سے زیادہ گھرانوں پر مشتمل گھرانوں کو متاثر کرنے کا فیصلہ واپس نہ لیا تو یورجوغ گاؤں کے عوام اجتماعی خود کشی یا علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے کیونکہ اس منصوبے کی وجہ سے پہلے سے آفت زدہ گاؤں کا نام ونشان بھی نہیں رہے گا۔ گذشتہ روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علاقے کے عمائیدین وزیر خان، مفتی اسرار الدین، حاجی محمد نواز، عبدول خان، شیر ولی خان، استان خان، ولی جان، شمس الرحمن، محمدخان العروف محمدی، مجیب الرحمن، فضل مالک، رحمت علی اور دوسروں نے کہاکہ خالی خزانے کا واویلا کرنے والی خیبر پختونخوا حکومت نے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے فرد واحد کے لئے بیگوشٹ گاؤں سے چار کروڑ روپے کی لاگت سے سائفن ایریگیشن پراجیکٹ کے ذریعے پانی لارہا ہے جس سے نہ صرف یورجوغ اور سانیک کے جڑواں گاؤں تباہ ہوں گے جنہیں ایک بین الاقوامی ادارے نے 1987ء میں جیالوجیکل سروے کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرے سے دوچار قرار دے کر ریڈ وارننگ جاری کیا تھا اور اس علاقے میں آبپاشی کو ممنوع قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کا یہ منظور نظر شخص شہزادہ امان الرحمن ہیں جوکہ اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا لیڈر اور صوبائی کابینہ میں شامل کئی وزراء کو قریبی رشتہ دار اور کئی ایک کا جگری دوست ظاہر کرتا ہے اور چترال میں ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایگزیکٹو انجینئر بھی اس شخص کا تابع فرمان نوکر ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صوبائی حکومت کی مدد سے شہزادہ امان الرحمن ایک غیر آباد اور بنجر زمین پر قبضہ جمارہے ہیں جوکہ 1975ء کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملکیت ہے اور وادی انجیگان میں کوئی نہیں جانتا ہے کہ گرم چشمہ خاص سے باہر شاہی خاندان کا کوئی ملکیتی زمین موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ فوکس ہیومنیٹرین ایجنسی کے تیارکردہ میں غیر مبہم طور پر کہا گیا ہے کہ اس گاؤں کے بالائی حصے سے پانی گزارنے پر یہ علاقہ شدید لینڈ سلائیڈنگ کی زد میں آئے گا اور اس بنجر زمین کو آباد کرنے سے یورجو غ گاؤں کے تباہ ہونے کا واضح خطرات آنکھوں کے سامنے منڈلا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایگزیکٹو انجینئر نے اس منصوبے کو راتوں رات شروع کیا اور اس سے متاثرہونے والا گاؤں کے باشندوں سے مشاورت کی زحمت بھی نہیں کی۔ انہوں نے کہاکہ شہزادہ امان الرحمن کی اثرو رسوخ کے سامنے وزیر اعظم سے لے کر چیف منسٹر اور ڈپٹی کمشنر تک سب بے بس ہیں کیونکہ وزیر اعظم کے کمپلینٹ پورٹل میں جب شکایت درج کی گئی تو اسے بھی ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن کے پاس بھیج دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر لویر چترال سے شکایت کی تو بھی گاؤں کے باشندوں کی متفقہ قرار داد اور درخواست کو اسی افیسر کے پاس بھیجا گیا جہاں یہ ردی کی ٹوکری کے نذر ہوگئے اور ان کی امیدیں سب بکھر گئے ہیں کیونکہ نواب خان نامی ایک ٹھیکہ دار کے ذریعے کام شروع کیا گیا ہے۔ اہالیان یورجوغ نے پی ٹی آئی حکمرانوں اور افسر شاہی کو یاد دلاتے ہوئے کہاکہ مظلوم کی آہ و فریاد اور خد ا کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہوتا اور تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہ اور خود کو اعلیٰ تصور کرنے والے متکبر حکمرانوں اور افسران کی اس عبرت ناک انجام سے دنیا آگاہ ہے جوقہر خد اکی زد میں آکر تماشہ جہاں بن گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ اس متنازعہ اور عوام دشمن اور حکومتی خزانے پر بوجھ ایریگیشن پراجیکٹ پر فوری طور پر پابندی لگادی جائے اور اس کی تحقیقات کیا جائے کہ ایک فرد واحد کے لئے چار کروڑ روپے کا منصوبہ منظور کرانے والوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔