141

کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے الزامات بے بنیاد ہیں،کرپشن اور کمیشن کبھی برداشت نہیں کر سکتا/مولانا عبدالاکبر چترالی

چترال(بشیرحسین آزاد)رکن قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الاکبرچترالی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے سیاسی کیریئرمیں کبھی بھی کسی سرکاری ادارے سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھا یا، کمیشن رشوت کا ماڈرن نام ہے اور وہ کمیشن کو سور کا گوشت قرار دیتے ہیں اس لئے جو کنٹریکٹر رنگ اور کمیشن پر پلتے ہیں وہ دوسروں کو بھی اپنے جیسا خیال کرتے ہیں۔ چترال پریس کلب میں جمعہ کے روز امیر جماعت اسلامی چترال اخونزادہ رحمت اللہ، صدر جے آئی یوتھ وجیہ الدین کی ہمراہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرا کام چترال کی تعمیر و ترقی کیلئے فنڈ لانا ہے، ادارہ کس کو ٹھیکہ دیتا ہے میرا اس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ میں نے کسی ٹھیکہ دار کو کام دینے کی سفارش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں معیار اور مقدار پر سمجھوتا کرنے والا نمائندہ نہیں ہوں اور آج تک میں نے اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلایا۔ مولانا چترالی نے کہا میری زندگی کھلی کتاب کی مانند ہے اور کوئی بھی یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ میں نے کام کے بدلے کسی سے ایک پیالی چائے پی لی ہو۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں 99 فیصد ٹھیکہ داروں کے پاس بیلچہ گینتی تک نہیں ہیں اور وہ سب رنگ پر اپنا روزگار چلاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ تمام کام ناقص تعمیر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج تک انہوں نے کروڑوں کی پیشکش ٹھکرائے ہیں اور ان کا ضمیر مطمئن اور صاف ہے۔ مولانا چترالی نے انتہائی برہمی کے ساتھ سخت الفاظ میں ٹھیکہ دارپر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ان سے پوچھے کہ اس کے پھنسے ہوئے 55لاکھ روپے جب میں نے انہیں دلوائے تو کیا میں نے ان سے ایک کپ چائے پی ہے۔ مولانا چترالی نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ مذکورہ ٹھیکہ دار ڈی ایچ کیو ہسپتال سمیت جہاں جہاں ایکویپمنٹ اور دیگر سامان سپلائی کرتا ہے ان کی مکمل انکوائری کی جائے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔ مولانا چترالی نے کہا کہ وہ اپنے 10 کروڑ فنڈ کو صحیح معنوں میں استعمال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں اور انشا اللہ تمام منصوبے بہتر طریقے سے انجام پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی انہوں نے جو منصوبے تعمیر کئے ان کی کنڈیشن دوسرے منصوبوں کے مقابلے میں آج بھی بہتر ہیں۔