138

36سال بعد مسلم اور کالاش کمیونٹی ایک ہی دن اپنے اپنے مذہبی تہوار منائیں گے

چترال(محکم الدین)چھتیس سال بعد مسلم اور کالاش کمیونٹی ایک ہی تاریخ کو اپنے اپنے مذہبی تہوار منائیں گے۔ چترال میں مسلم کمیونٹی کی طرف سے عید الفطر اور کالاش قبیلے کی طرف سے موسم بہار کے معروف تہوار چلم جوشٹ (جوشی) کی تیاریاں جاری ہیں۔ اور کورونا خطرات کے باوجود دونوں قبیلوں کی طرف سے اپنے اپنے تہواروں کیلئے خریداری کا عمل زور و شور سے جاری ہے۔ کالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ریسرچ آفیسر کالاشہ دور میوزیم بمبوریت اکرام حسین کے مطابق چلم جوشٹ کالاش قبیلے کا اہم کیلنڈر تہوار ہے۔ جس کا آغاز13 مئی سے رومبور وادی میں 14 مئی کو بمبوریت میں اور15 مئی کو بریر وادی میں شروع ہوتا ہے۔ اور تینوں وادیوں میں یکے بعد دیگرے تین دن جاری رہتے ہیں۔ جس کا مجموعی دورانیہ پانچ دن پر محیط ہوتا ہے۔ جو 13 مء کو رومبور میں شروع ہو کر 17 مئی کو بریر وادی میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ امسال عید الفطر اور کالاش فیسٹول چلم جوشٹ کا آغاز ایک ساتھ ہو رہا ہے اور یہ طویل عرصے بعد ہورہا ہے۔ تاہم کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات کی وجہ سے لوگوں میں ایک خوف پایا جاتا ہے۔ چترال میں عید الفطر کی چھٹیاں اور کالاش فیسٹول کی خوشیان سیاحت کیلئے ایک نادر موقع فراہم کرتی ہیں لیکن صوبائی حکومت کی طرف سے عید کے دوران لاک ڈاون کے اعلان نے سیاحوں اور سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے جو عید اور فیسٹول کے موقع پر آمدنی کی توقع رکھتے تھے۔ چترال میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے۔ اگر احتیاطی تدابیر پر عملدر آمد کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا۔ تولوگوں کی آمد ورفت میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ اس سے سیاحت کو بری طرح نقصان پہنچے گا۔