106

بندو بست اراضی ریکارڈ کی حوالگی موخر اور کمیشن قائم کرنے پر وزیر اعلیٰ کے مشکور ہیں /تحریک انصاف چترال

چترال (نمائندہ خصوصی) پاکستان تحریک انصاف چترال کی قیادت نے صوبائی حکومت کی طرف سے لینڈ سٹلمنٹ کے حوالے سے چترالی عوام کے تحفظات دور کرنے، کمیشن کے قیام اور ریکارڈ حوالگی موخر کرنے پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، معاؤن خصوصی وزیر اعلیٰ وزیر زادہ، چیف سیکرٹری اور کمشنر ملاکنڈ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ جمعہ کے روز پاکستان تحریک انصاف چترال کے صدر سجاد احمد دیگر عہدہ داران محبوب الرحمن، خیر الرحمن، ضیاء الرحمن، امیر علی، حیات الرحمن اور عمران کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ لینڈ سٹلمنٹ چترال نے چترال کے 93 فیصد رقبے کو سرکاری ملکیت قرار دے کر عوام میں ایک تشویش پیدا کی ہے جس میں ریور بیڈز، شاملات،جنگل وغیرہ کی تشریح کئے بغیر ان کو بحق سرکار قرار دینے پر عوامی سطح پر شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور عوامی مطالبہ تھاکہ جب تک عوامی تحفظات دور نہیں کئے جاتے ریکارڈ کی تکمیل اور ڈی سی چترال کو حوالگی نہ کی جائے۔ اس لئے چترال کے لوگوں کیلئے یہ خوشی کی بات ہے کہ معاؤن خصوصی وزیر زادہ کی کوششوں سے وزیر اعلیٰ کی طرف سے کمیشن کے قیام، عوام کے تحفظات دور کرنے اور ریکارڈ کی حوالگی موخر کر دی گئی ہے اور ریکارڈ تب تک ڈی سی چترال کو حوالہ نہیں کیا جائے گاجب تک عوامی تحفظات دور نہ کئے جائیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں فوری اقدامات اٹھانے پر وزیر اعلیٰ محمود خان، معاؤن خصوصی وزیر اعلیٰ وزیر زادہ، چیف سیکرٹری اورکمشنر ملا کنڈ کا شکریہ ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں نہ صرف لینڈ سٹلمنٹ کا ایشو حل طلب ہے بلکہ اس کے ملازمین کو مستقل کرنے کا مسئلہ بھی حل کیا جانا چائیے جو کہ روزگار چھین جانے کے سلسلے میں انتہائی خوف اور مایوسی سے دوچار ہیں۔ سجاد احمد نے کہا کہ یہ بات باعث تعجب ہے کہ دیر اور سوات جیسے اضلاع میں لوگ پہاڑوں میں اپنی مرضی سے مکانات بنا رہے ہیں لیکن چترال میں تمام پہاڑوں، جنگلوں، ریور بیڈز کو سرکاری ملکیت قرار دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ چیزوں کی تشریح تاحال نہیں کی گئی ہے جو کہ واضح ہونے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیاکہ دوسرے اضلاع میں سالوں سے سٹلمنٹ ریکارڈ مکمل نہیں ہوئے ہیں لیکن چترال میں عجلت میں اس کی حوالگی پر زور دیا جارہا ہے جو کہ کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کمیشن کے قیام اور ریکارڈ حوالگی کیلئے مزید وقت دینے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر امیر علی نے خطاب کرتے ہوئے سابق ایم ایم اے حکومت کے نمائند گان پر الزام لگایا کہ ایم ایم اے دور میں جب لینڈ سٹلمنٹ چترال میں قائم ہو رہا تھاتو باوجود مطالبات کے نمائندگان نے ملازمتوں کی خاطر قوم کے مفاد کو داؤ پر لگا دیااور اس اہم مسئلے کیلئے حکومت سے کوئی بات نہیں کی جس کی وجہ سے عوام اب بہت بڑے مسئلے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 93 فیصد رقبہ سرکاری ملکیت قرار دینے کے بعد عوام کے پاس کیا رہ گیا ہے جبکہ چترال میں شاملات، جنگلات کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ سجاد نے کہا اس کے علاوہ بھی بے شمار مسائل لینڈ سٹلمنٹ کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جن کے بارے عوام کے تحفظات دور کرنے کی ضرورت ہے۔