192

چترال میں کرش پلانٹس سر بمہر کرنا ظلم اور نا انصافی ہے، حکومت فیصلے پر نظر ثانی کرے ورنہ احتجاج کریں گے/کرش پلانٹس ایسوسی ایشن

چترال(گل حماد فاروقی)چترال کے دونوں اضلاع میں تمام کرش پلانٹوں کو محکمہ صنعت و حرفت نے بند کر دئے۔ جس کے حلاف کرش پلانٹ مالکان اور اس میں کام کرنے والے مزدوروں نے ائیر پورٹ روڈ پر ایک پر امن احتجاج کیا۔ کرش پلانٹ ایسوسی ایشن کے صدر سید خالد جان ایڈوکیٹ کے زیر صدارت ان مالکان اور مزدوروں نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے تھے جس میں ظالمانہ فیصلے واپس لئے جائیں،ہمارے منہ سے نوالہ نہ چھینا جائے جیسے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر سید خالد جان نے بتایا کہ ضلع اپر اور لوئیر چترال میں 22 کرش پلانٹ کام کررہے ہیں جس میں 500 کے قریب مزدور لگے ہیں اور ان سے وابستہ سینکڑوں لوگ مزدا والے اور دیگر شعبوں میں اسی سے رزق حلال کما رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صنعت وحرفت نے پاور کرشر ایکٹ 2020 نافذ کیا ہے جس کے تحت کوئی بھی کرش پلانٹ سڑک سے 150 میٹر کے فاصلے پر واقع ہوگا اور ریور بڈ یعنی دریا کے کنارے سے بھی ڈیڑھ سو میٹر دور قائم کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ سید عباس جان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں عمومی طور پر اور چترال میں خصوصی طور پر زمین کی جغرافیائی ساخت ایسی ہے کہ دونوں طرف پہاڑ ہیں اور بیچ میں دریا بہتا ہے، یہاں اتنی وسیع میدانی علاقہ ہے نہیں جو سڑک یا دریا کے کنارے سے ڈیڑھ سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم شروع سے اس محکمہ اور حکومت کی ہر ظلم و ستم کو برداشت کرتے چلے آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرش پلانٹ کیلئے لائسنس کا سالانہ فیس پانچ ہزار سے بڑھا کر پچاس ہزار روپے مقرر کیا گیا جو سراسر زیادتی ہے۔ اسی طرح سالانہ تجدید کا فیس دو ہزار روپے سے بڑھا کر بیس ہزار روپے کردیا گیا جو ہماری برداشت سے باہر تھا مگر اس کے باوجود ہم نے زہر کا یہ گھونٹ پی لیا۔ ہماری آمدنی اتنی نہیں ہے جتنا ہم ٹیکس دے رہے ہیں۔ سفیر اللہ نے بتایا کہ اسسٹنٹ ڈائیریکٹر محکمہ صنعت و حرفت نے دونوں اضلاع میں تمام کرش پلانٹ کو سر بمہر کردیا ہے جس سے سینکڑوں لوگ بے روز گار ہوکر ان کے گھر کے چولہے بجھ گئے ہیں۔ ان کرش پلانٹس کو بند کرنے سے ایک طرف اگر سینکڑوں لوگ بے روز گار ہوگئے ہیں تو دوسری طرف تمام سرکاری اور غیر سرکاری ترقیاتی کام بھی رک گئے ہیں جبکہ چترال ریڈ زون میں شامل ہے اور کسی بھی وقت بڑا زلزلہ آسکتا ہے جس سے بچنے کیلئے عمارتوں میں نہایت معیاری میٹریل کا استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے 12 مارچ کا ڈیڈ لائن دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس وقت تک اگر حکومت نے اپنا یہ ظالمانہ فیصلہ واپس نہ لیا تو کرش پلانٹ مالکان اور اس میں کام کرنے والے مزدور سولہ مارچ کو پورے ملاکنڈ ڈویژن کے کرش پلانٹ کے مالکان اور مزدور ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے بھر پور احتجاج کریں گے اور اس کے بعد تمام سرکاری اور غیر سرکاری کاموں کو کرش کی سپلائی بند کی جائے گی۔اس موقع پر چترال کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے صدر نور احمد خان بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی عندیہ دیا کہ کرش پلانٹ مالکان کے ساتھ ٹھیکدار برادری بھی بھر پور یکجہتی کرے گی۔