103

وادی بریر میں شجر کاری مہم کا آغاز، محکمہ جنگلات نے دو ہزار پھلدار پودے مفت تقسیم کئے

چترال(گل حماد فاروقی) محکمہ جنگلات چترال نے کالاش ویلی بریر میں موسم بہار کے شجر کاری مہم کا آغاز کردیا اور سینکڑوں کی تعداد میں پھلدار پودے مقامی لوگوں میں مفت تقسیم کئے گئے۔ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کے چلغوزہ پراجیکٹ کے زیر اہتمام محکمہ جنگلات کی اشتراک سے وادی بریر میں علاقے کے لوگوں کی ذریعہ معاش بہتر بنانے میں معاونت اور جنگلات پر بوجھ کم کرنے کی عرض سے شروع کئے جانے والے اس مہم کے سلسلے میں کمیونٹی بیسڈ سکول بریر میں ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں ایس ڈی ایف او عمیر نواز اور چلغوزہ پراجیکٹ کے کوآرڈنیٹر اعجاز نے شرکت کیں جبکہ اس موقع پر بڑی تعداد میں مقامی لوگ جن میں خواتین اور سکول طلباء شامل ہیں موجود تھے۔ حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ایس ڈی ایف او عمیر نواز اور کوآرڈنیٹر اعجاز احمد نے کہا شجر کاری کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے پودوں کی نگہداشت کے طریقوں سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کے لوگ زیادہ تر جنگل کی لکڑی استعمال کرتے ہیں تو ان پودوں سے ان کو ایک طرف اگر پھل ملتا ہے جسے بیچ کر یہ لوگ اپنے لئے رزق حلال کماسکتے ہیں تو دوسری طرف اس کی شاخ تراشی کرکے بطور ایندھن استعمال کرسکتے ہیں جس سے جنگلات پر بوجھ کم پڑ جائیگا۔ اعجاز احمد نے بتایا کہ وہ ان کیلئے ایک ایسے چولہے کا بندوبست کرتا ہے جس میں لکڑی کی بجائے متبادل توانائی خرچ ہوتی ہو اور وہ کافی دیر تک گرم بھی رہتا ہے اس کے علاوہ اس علاقے کے لوگوں سے باغات لگانے کا مقابلے کروائیں گے جس کا باغ ہر لحاظ سے بہتر ہوگا ان کو انعام دیا جائے گاتاکہ ان کو دیکھ کر دوسرے لوگ بھی اس طرف راغب ہوسکے۔ وادی بریر کے چلغوزہ فارسٹ پروٹیکشن اینڈ کنزرویشن کمیٹی کے صدر انات بیگ کالاش نے اس موقع پر محکمہ جنگلات اور چلغوزہ پراجیکٹ کے اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس علاقے میں پھل دار پودے لوگوں میں مفت تقسیم کئے کیونکہ یہاں کے لوگ نہایت غریب ہیں اور وہ یہ پودے لگا کر ان کا میوہ بازار میں فروخت کرسکتے ہیں جس سے ان کے گھر کا چولہا جلتا رہے گا۔ اس تنظیم کے جنرل سیکرٹری شمس الربی نے کہا کہ اس منصوبے سے اس علاقے کے لوگوں کا بھی قسمت بدلے گا اور لوگ پھل دار پودے لگا کر ان سے خود بھی پھل کھائیں گے اور اسے فروخت کرکے گھر کا خرچہ بھی نکال سکتے ہیں۔ بعض کالاش خوااتین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ تر کھانا پکانے اور خود کو گرم کرنے کیلئے جنگل کی لکڑی جلاتے ہیں لہذا وفاقی اور صوبائی حکومت ان کیلئے متبادل ذرائع یعنی گیس یا سستی بجلی کا بندوبست کرے تاکہ وہ لکڑی کی بجائے گیس یا بجلی استعمال کرے اور جنگل کی کٹائی کو روکا جاسکے۔ آخر میں علاقے کے خواتین وحضرات اور بچوں میں دو ہزار پھل دار پودے مفت تقسیم کئے گئے جنہیں لے کر خوشی خوشی وہ لوگ اپنے کھیتوں میں لگانے لگے۔ اس تقریب میں شدید سردی کے باوجود کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔