125

پرانے ٹی وی سیٹ کی وجہ سے ڈیڑھ سال تک پورے قصبے کا انٹرنیٹ سسٹم متاثر

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ایک قصبے میں 18 ماہ تک انٹرنیٹ کسی نامعلوم اور پراسرار وجہ سے متاثر رہا طویل چھان بین کے بعد معلوم ہوا کہ اس گڑبڑ کی وجہ ایک پرانا ٹی وی تھا۔ تفصیلات کے مطابق، جزیرہ برطانیہ کے ملک ’ویلز‘ میں ایک قصبے ’ایبرہوسن‘ کی انٹرنیٹ سروس 18 ماہ تک روزانہ صبح 7 بجے سے بند ہوجاتی اور اگلے چند گھنٹوں تک بند رہتی لیکن انجینئروں تک کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ قصبے کے باسیوں کی جانب سے تقریباً روزانہ ہی براڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی سے شکایت کی جاتی۔ تاہم جب تک کمپنی کے ماہرین وہاں پہنچتے، تب تک انٹرنیٹ بحال ہوچکا ہوتا۔مہینوں تلاش کرنے کے باوجود بھی اس کمپنی کے انجینئروں کو ایبرہوسن کے براڈ بینڈ انٹرنیٹ میں کوئی خرابی نہیں ملی۔ احتیاطاً انہوں نے پورے قصبے میں براڈ بینڈ انٹرنیٹ کا ایک ایک کیبل، ایک ایک تار بھی بدل دی لیکن مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔ تقریباً ڈیڑھ سال (18 ماہ) ناکامی کے بعد بالآخر اس قصبے کو برانڈ بینڈ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی نے فیصلہ کیا کہ اپنے سب سے زیادہ تجربہ کار ماہرین کو وہاں بھیجا جائے۔ اس ٹیم نے بھی پورے قصبے کا دورہ کیا لیکن اسے بھی ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوسکی جسے روزانہ صبح سات بجے انٹرنیٹ سروس بند ہوجانے کی وجہ قرار دیا جاسکے۔ البتہ، اس ٹیم کے سربراہ مائیکل جونز کو شبہ ہوا کہ صبح ٹھیک سات بجے انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ ”شائن“ (سنگل ہائی لیول امپلس نوائس) کہلانے والا ایک مظہر ہوسکتا ہے۔ اس میں کسی برقی آلے (الیکٹرونک ڈیوائس) سے بے ہنگم اور شدید قسم کا برقی مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو چاروں طرف پھیل جاتا ہے۔ اگر اس ”شور“ (نوائس) کی فریکوئنسی ویسی ہی ہوگی جیسی براڈ بینڈ کی فریکوینسی ہے تو دونوں ایک دوسرے میں ”دخل اندازی“ کریں گی جس کی وجہ سے براڈ بینڈ سروس بند بھی ہوسکتی ہے۔ ”شائن“ کے ذرائع میں اسٹریٹ لائٹ، سی سی ٹی وی کیمرا اور مائیکرو ویو اوون تک شامل ہیں۔ اپنے خیال کی تصدیق کیلیے جونز اور ان کے ساتھی ”شائن“ کا سراغ لگانے والے آلات سے لیس ہوئے اور صبح سویرے تیار ہو کر بیٹھ گئے۔ صبح ٹھیک سات بجے ”شائن“ کی سرگرمی شروع ہوگئی اور انہوں نے دیگر آلات کی مدد سے وہ مقام تلاش کرنا شروع کیا جہاں سے یہ برقی مقناطیسی شور پیدا ہورہا تھا۔ جلد ہی وہ ایک مکان تک پہنچ گئے جہاں ایک پرانا ٹی وی آن تھا… اور وہی اس ”شائن“ کا مرکز بھی تھا۔ مزید چھان بین پر معلوم ہوا کہ یہ پرانا ٹی وی اس خاندان کے ایک فرد نے اٹھارہ ماہ پہلے مرمت کرکے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔ وہ فرد روزانہ صبح ٹھیک سات بجے بی بی سی نیٹ ورک کا پروگرام ”ہومز انڈر دی ہیمر“ دیکھنے کیلیے یہ ٹی وی آن کردیا کرتا تھا اور جب تک وہ پروگرام ختم نہ ہوجاتا، تب تک وہ ٹی وی کے سامنے ہی بیٹھا رہتا۔ چونکہ اس خاندان کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ اس مسئلے کی وجہ ان کے گھر میں استعمال ہونے والا ٹی وی ہے، اس لیے انہوں نے فوراً ہی اپنی غلطی مانتے ہوئے معافی مانگی اور آئندہ یہ پرانا ٹی وی استعمال نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘ کے مصداق، آخرکار قصبے میں انٹرنیٹ کا مسئلہ حل ہوگیا اور اس مسئلے کی وجہ بھی معلوم ہوگئی… جو اتنی غیر متوقع تھی کہ اس نے انجینئروں تک کو حیران کرکے رکھ دیا۔