58

دومادومی بونی بجلی گھر کے بارے میں حقائق کو مسخ کرکے افواہ سازی کی کوشش


چترال (انڈیپنڈنٹ رپورٹ) دومادومی اپر چترال میں ایس آر ایس پی کی طرف سے بونی کو بجلی کی ترسیل کیلئے تعمیر شدہ 500کلوواٹ کے بجلی گھر کو فعال بنانے بصورت دیگر مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کی دھمکی حقائق کے برخلاف اور ذاتی عناد لگ رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں بونی کے بعض معتبرات کی طرف سے مقامی میڈیا کو جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ دومادومی میں تعمیر شدہ بجلی گھر کو فعال بنایا جائے حالانکہ مذکورہ بجلی پہلے سے فعال ہے۔بونی میں بجلی کے مسئلے سے دوچار اور مذکورہ بجلی گھر کی تعمیر کے پس منظر سے باخبر لوگوں کیلئے مذکورہ اخباری بیان حیران کن ہے۔ اس حوالے سے حقائق کا جائزہ لینے اور متعدد افراد سے رابطہ کرنے سے یہ بات عیاں ہو گئی کہ مذکورہ بجلی گھر نومبر 2017میں مکمل ہوا تھا او ر مختلف مراحل اور معاملات کے حل کے بعد مار چ 2020میں اس بجلی گھر سے بونی کو بجلی کی فراہمی جاری ہے اور دسمبر 2020تک ایس آر ایس پی نے اپنے اس بجلی گھر سے پیڈو کے ذریعے بونی کو پانچ لاکھ کلوواٹ سے زائد بجلی فراہم کی ہے۔ اگر اس فراہم کردہ بجلی کا حساب واپڈا کے نرخ کے مطابق لگایا جائے توبجلی فراہم کی مد میں یہ رقم 70لاکھ روپے سے زائد بنتی ہے جبکہ پیڈو کے نرخ کے حساب سے یہ 15لاکھ روپے کی خطیر رقم بنتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں دلچسپ امر یہ ہے کہ ابھی تک بجلی کی فراہمی کے مد میں پیڈو کی طرف سے ایس آر ایس پی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوئی ہے کیونکہ پیڈو کی طرف سے ادائیگی کا اپنا ایک طریقہ کار ہے جسے پورا کرنے میں کئی مہینے لگتے ہیں مگر اس کے باوجود ایس آر ایس پی نے علاقے کے عوام کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے ذرائع سے بجلی کی فراہمی کو جاری رکھا ہوا ہے، دیکھ بھال کا سارا انتظام جس میں سپیئرپارٹس،چینل کی صفائی اور دیکھ بھال کے دیگر امور ایس آر ایس پی اپنے محدود وسائل کے اندر رہتے ہوئے کر رہی ہے مگریہ عمل طویل عرصے تک جاری نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ ادارے کے پاس بھی وسائل کی کمی ہوتی ہے۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے ایس آر ایس پی کے بجلی گھر سے استفادہ کرنے والے صارفین نے بتایا کہ ادارے کی طرف سے فراہم کی جانے والی بجلی بلاتعطل جاری ہے، لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ اس بجلی کی وولٹیج بھی 220تک ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں دوسرے علاقے میں جہاں دیگر سسٹم یعنی نیشنل گرڈ سے بجلی فراہم ہورہی ہے وہاں بجلی لوڈشیڈنگ معمول بن چکا ہے، وولٹیج بھی ہمیشہ کم رہتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گرمیوں کے ایام میں 660گھرانے کو اس بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی جوکہ بونی کا تقریباً نصف ہے تاہم اب سردیوں کے ایام میں 332گھرانے بجلی سے مستفید ہوتے ہیں جبکہ یہ بھی بتایا گیا کہ بجلی گھر کے ہیڈ میں کچھ بہتری لانے سے بجلی کی پیداوار 500کلوواٹ تک پہنچ جائیگا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پہاڑی علاقوں میں قائم بڑے اور چھوٹے پن بجلی گھروں کی پیداوار سردیوں میں بہت ہی کم ہوتی ہے جسکی مثال 108میگاواٹ گنجائش والے گولین گول بجلی گھر کی ہے جو کہ بمشکل 60میگاواٹ پیداوار دے پارہی ہے جبکہ سردیوں میں یہ پیداوار صرف 7سے 10میگاواٹ کے درمیان ہوتی ہے۔
عوامی مفا دکے اس اہم مسئلے کے حوالے سے حقائق کا جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ 2012سے 2017کے درمیانی عرصے میں یورپین یونین کی طرف سے ملاکنڈڈویژن میں پن بجلی گھروں کی تعمیر کے لئے ایس آرایس پی کو فنڈ ملے تھے جس میں چترال کو زیادہ فنڈ دئیے گئے اور جسکی وجہ سے چترال میں بجلی گھروں کی تعداد دیگر علاقوں کے مقابلے میں زیادہ رہی، اگر ترقیاتی منصوبوں کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر آبادی کے تناسب سے فنڈ دئیے جاتے تو چترال کو بہت ہی کم حصہ ملتا مگر ایس آر ایس پی کے حکام نے چترال کی پسماندگی اور یہاں کے عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے چترال کو زیادہ فنڈ جاری کئے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی پالیسی ہے کہ جس علاقے میں پہلے سے سرکاری ٹرانسمیشن لائن موجود ہو تو وہاں ایس آر ایس پی ایک اور ٹرانسمیشن لائن بچھا کر متبادل انتظام نہیں کر سکتی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وسائل کی کمی اورٹرانسمیشن لائن کے حوالے سے سرکاری ضوابط کو دیکھتے ہوئے ڈونر ادارے نے ان بجلی گھروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ان تمام علاقوں میں ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لئے پیسے نہیں دیئے کیونکہ اس طرح ہر بجلی گھر کی تعمیری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہوتا اورشائد اتنے زیادہ بجلی گھر چترال میں تعمیر نہ ہو پاتے اس لئے ایس آر ایس پی نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ ان علاقوں میں پہلے سے ہی ٹرانسمیشن لائن موجود ہیں لہذا بونی میں قائم کیے جانے والے بجلی گھر کی پیداوار کو پیڈو کے بجلی کے ساتھ منسلک کیا جائے تاکہ علاقے کو گولین گول اور ریشن سے فراہم ہونے والے بجلی کیساتھ ملکر یہ مقامی پیداوار علاقے میں بجلی کے مسئلے کو حل کرنے کا باعث بنیں، اسی لحاظ سے بونی میں پیڈو کے ڈسٹری بیوشن لائن کی صورت میں موجود انتظام کے تحت علاقے کو بجلی فراہم کرنا ہے۔

حقائق جاننے کی کوششوں کے دوران یہ چیز بھی سامنے آئی کی کہ چترال میں ایس آر ایس پی کی طر ف سے بجلی گھروں کی تعمیر میں فی کلو واٹ اوسط لاگت ڈیڑھ سے دو لاکھ کے درمیان رہی ہے جوکہ قومی سطح پر پن بجلی گھروں کے منصوبوں کے مقابلے کئی درجہ کم ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایس آر ایس پی نے پیشہ وارانہ مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ درست طریقے سے کام سرانجام دیا ہے اور اس حوالے سے ادارے کی مہارت پر نکتہ چینی کرنے والے عناصر بے بنیاد باتیں اڑ ا رہے ہیں۔ پن بجلی گھروں کیساتھ منسلک ایک سے زائد ماہرین جنہوں نے متعدد مرتبہ سرکاری حکام کیساتھ اس بجلی گھر کا معائنہ کیا ہے، نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ دومادومی بجلی گھر میں پہلی مرتبہ نئی قسم کا ٹربائن استعمال ہوا ہے جسے ”کپلان ہیڈ ٹربائن“ کہا جاتا ہے جوکہ کافی مہنگی ہوتی ہے اور اس پر انسٹالیشن کے اخراجات بھی دیگر ٹربائن کی بہ نسبت زیادہ ہوتے ہیں، اس ٹربائن کی خاصیت ہی یہ کم اونچائی کے حامل ہیڈ والے مقام پر بجلی گھر وں کیلئے استعمال ہوتا ہے حالانکہ اس ٹربائن کی تنصیب پر لاگت دیگر ٹربائن کے مقابلے میں زیادہ آتی ہے۔ مگریہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ دومادومی بجلی گھر میں اس ٹربائن کو نہایت مناسب لاگت سے نصب کیا گیا ہے جس پر متعلقہ ڈونر اور جائزہ کار بھی مطمئن رہے۔ اس منصوبے میں ایس آر ایس پی نے ساڑھے آٹھ کلومیٹر طویل ہائی ٹرانسمیشن لائن بچھاکر بجلی گھر سے بجلی کو بونی میں پیڈو کے ٹرانسمیشن لائن تک پہنچایا ہے اور بعد ازاں ایس آر ایس پی نے پیڈو سے درخواست کی کہ وہ یہ بجلی اپنے گرڈ کیساتھ منسلک کرے تاہم یہ عمل دوسال اور سات مہینے لے لیا اور بالآخر ایس آرایس پی اور پیڈو کے درمیان ایک معاہدہ ممکن ہوا۔ مارچ 2020میں ایس آر ایس پی کے بجلی گھر سے پیڈو کو بجلی کی فراہمی شروع ہوئی حالانکہ پیڈو کیساتھ معاہدہ جولائی 2020میں ہوا تاہم یہ معاہدہ مارچ کے مہینے سے نافذ العمل تسلیم کیا گیا۔ پیڈو صارفین سے بجلی کے بل اور بقایاجات وصول کرتی ہے مگر ابتک اس مد میں ایس آر ایس پی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوئی کیونکہ واجبات کی ادائیگی کئی مہینوں میں ہوتی ہے۔ ذرائع نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ بجلی گھر کی تعمیر مکمل ہونے سے لیکر پیڈو کے ساتھ ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی کی فراہمی کیلئے معاہدہ ہونے تک یہی عوامی حلقے جو آج کل بجلی کی فراہمی کے حوالے سے کافی شور مچا رہے ہیں، اس وقت انہوں نے معاہدے کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کر پائے اور خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے حالانکہ اگر یہ حضرات اس وقت اپنا جاندار کردار کرتے تو یہ معاہدہ طوالت کا شکار نہ ہوتا۔ بجائے اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے ان حلقوں نے اس وقت بھی بجلی گھر کے بارے میں منفی پراپیگنڈوں کا سلسلہ جاری رکھا کہ یہ بجلی گھر ناکام ہے، یہ بجلی پیدا نہیں کر سکتی۔ اب جب کہ بجلی گھر سے بلا تعطل اور ٹھیک وولٹیج میں بجلی سپلائی ہو رہی ہے تو یہی عناصر اعتراض کررہے ہیں کہ انہیں بجلی نہیں مل رہی۔ کیا یہ انگور کھٹے ہیں والے قصے کے مصداق نہیں؟ اور کیا یہ ان عناصر کے معاندانہ رویے کی عکاسی نہیں کرتی۔ یہ بات بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ بنیادی ضروریات کی فراہمی سرکار کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کہ غیر سرکاری اداروں کی مگر ہم اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے جہاں سرکار ی مشینری یا سرکاری ادارے نہیں پہنچ سکتے تو سول سوسائٹی کے ا دارے ان حلقوں میں کام کرکے اس خلاء کو پورا کرتے ہیں جوکہ عوام اور سرکار دونوں کے لئے سود مند ہوتا ہے۔ مگر بدقسمتی یہاں پر ہوتی جب بعض عناصر اس بات کو سمجھ جاتے ہیں کہ سرکار کیخلاف احتجاج اور غوغہ کے باوجود انکی دال نہیں گلتی تو یہ عناصر غیر سرکاری اداروں کواپنی بے جا تنقید اور احتجاج کا نشانہ بنانا شروع کرتے ہیں، کیونکہ یہ ادارے تنقید کیلئے آسان ہوتے ہیں اور اکثر اوقات یہ غیر سرکاری ادارے اپنی بد نامی کے ڈر سے ایسے عناصر کی باتوں کو اہمیت بھی دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔
بونی کے اسی بجلی والے معاملے میں یہ قطعاً ممکن نہیں کہ 500کلو واٹ کا بجلی گھر پورے بونی کے 1200گھرانوں پر مشتمل قصبے کو بجلی فراہم کرے۔ بدقسمتی سے گولین گول کے 108میگاواٹ بجلی گھر سے بونی کو سپلائی لائن کی حالت مخدوش ہے، یہی حال پیڈو کے سپلائی لائن کی ہے جسکی وجہ سے بونی پہنچنے والے کی کوالٹی ٹھیک نہیں اور وولٹیج کم ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ ریشن میں پیڈو کا بجلی گھر 2015میں سیلاب برد ہونے کے بعد سے ابتک دوبارہ بحال نہیں ہوا۔ یہ دونوں حقیقی عوامی مسائل ہیں مگر علاقے کے معتبرات ان اہم مسائل کے بارے میں بات کرنے اور حکومتی اداروں کے ذریعے ان مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے سے پہلو تہی کر رہے ہیں۔
حیران کن طور پر بونی میں بجلی کے حوالے سے شور غوغہ غیر فعال بجلی گھر کی بحالی کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ معیاری سروس اور مطلوبہ وولٹیج میں عوام کو بجلی فراہم کرنے والے بجلی گھر سے معیاری بجلی حاصل کرنے کی ہے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ اسوقت بونی میں دو فیڈر ہیں، ایک فیڈر کو ایس آر ایس پی کے بجلی گھر سے معیاراور مقدار کے مطابق بجلی مل رہی ہے جبکہ دوسرے فیڈر سے منسلک لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی معیار اور مقدار والی بجلی چاہیے مگر جو اصل صورتحال ہے وہ یہ کہ ان کو بجلی دینے کے لئے پیڈو کے ڈسٹری بیوشن لائن میں 15لاکھ روپے سے زیادہ لگنے ہیں تب جا کر بونی کے بقیہ ایک فیڈرز کو بجلی مل سکتی ہے کیونکہ اسوقت یہ بجلی بونی کے صرف ایک فیڈر کے ساتھ منسلک ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بونی کے بقیہ ایک فیڈرز کو بجلی دینے کے لئے جو سرمایہ درکار ہے وہ کون فراہم کرے گا؟ یہی اصل مسئلہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب پیڈو مقامی صارفین سے بجلی کے مد میں پیسے اکھٹے کر رہا ہے تو وہ بونی کے بقیہ فیڈرز کو بجلی کی فراہمی کیلئے اقداما ت کیوں نہیں اٹھا رہی؟۔انصاف کا تقاضا تو یہی ہے کہ پیڈو قدم بڑھائے اور بونی کے ایک فیڈرز کو بجلی کی فوری فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے۔ چونکہ صارفین سے بجلی کے مد میں رقم پیڈو وصول کر رہی ہے، جب پیڈو ایس آر ایس پی سے اپنے ڈسٹری بیوشن لائن کا کرایہ بطور (ویلنگ چارجز)وصول کر رہی ہے، اور اب نئے فیڈر کو بجلی فراہم کرنے کے بعد ان صارفین سے بھی بجلی کے بل پیڈو ہی وصول کریگی تو اس فیڈر کے لئے تقسیم کار کا بندوبست کرنا پیڈو کی ذمہ داری بنتی ہے نہ کہ ایس آر ایس پی کی۔ بونی کے غیور اور متحرک عوام پیڈو سے یہ کیوں نہیں پوچھتے، انسے کیوں نہیں کہتے کہ بھائی لاکھوں روپے جو لے رہے ہیں تو اس ایک فیڈر کو بھی بجلی دیکر لاکھوں مزید پکڑ لیں۔ اس سب کے باوجود بونی کے عوام کیساتھ تعاؤن کی غرض سے ایس آر ایس پی نے ڈونر ادارے یورپی یونین کیساتھ یہ معاملہ اٹھایا تھا کہ چترال میں یہ بجلی گھر کم لاگت سے تعمیر ہوئے ہیں اور اس وجہ سے انکے ساتھ الگ ڈسٹری بیوشن لائن نہیں، بعض مقامات پر حفاظتی بند اور تکنیکی معاؤنت کی بھی ضرورت ہے۔اگر دیانتداری سے دیکھا جائے تو ایک ایسے علاقے میں جہاں پہلے سے ڈسٹری بیوشن لائن موجود ہووہاں ایک اور ڈسٹری بیوشن لائن بچھانا وسائل کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں۔ تاہم ایس آر ایس پی کی کوشش تھی اور اب بھی ہے کہ عوام کی سہولت کیلئے یہ سب کچھ کیا جائے، یورپی یونین نے اس سے اتفاق بھی کیا تھا مگر کورونا وباء کی وجہ سے عالمی ادارے کے فنڈ جنوبی امریکہ منتقل کیے گئے۔
ایس آر ایس پی کی تمام تر توجہ اس سسٹم کو بحال اور پائیدار رکھنے پر ہے۔ بجلی گھر پر تعینات ملازمین کی تنخواہیں، دیکھ بھال کے اخراجات، سپیئر پارٹس، تکنیکی معاونت،بجلی گھر کو پانی کی وافر مقدار میں فراہمی کیلئے بندوبست کرنا کیونکہ چترال جیسے علاقوں میں دریا میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے پانی کا بہاؤ متاثر ہوتا رہتا ہے۔باوجود اسکے کہ بونی کو بجلی فراہم کرنے والے بجلی گھر کو پیڈو کی طرف سے ابتک ایک پائی نہیں ملی مگر ایس آر ایس پی نے اس سارے کام کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ اس حوالے سے بونی کے غیور شہری بھی بے خبر ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بونی کے کچھ لوگوں نے بتایا کہ انکے پاس کھمبے موجود ہیں جس پر ایس آر ایس پی بونی کے بقیہ ایک فیڈر کو بجلی فراہم کرنے میں تعاؤن کرنے کی حامی بھری مگر بونی سے تعلق رکھنے والے یہ حضرات ان کھمبوں کیلئے ایس آر ایس پی سے رقم مانگ رہے ہیں۔ عوام کو سہولت دینے کی خاطر ایس آر ایس پی یہ بھی کرنے کے لئے تیار ہے مگر ان ادائیگیوں کے لئے کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتی کیونکہ اس بجلی گھر کی فعالیت وسائل کی دستیابی پر منحصر ہے اور یہ تبہی ممکن ہے جب پیڈو سے واجبات ایس آر ایس پی کو ملیں۔
حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ علاقے کے معتبرات اپنے معاملات پر غور کرکے درست سمت کا تعین کریں، سرکارایک مستقل اکائی ہے اور عوامی مسائل حل کرنا سرکار کی اولین ذمہ داری ہے جبکہ اسکے مقابلے میں غیر سرکاری یا نجی ادارے اس وقت کچھ کرسکتے ہیں جب انکے لئے حالات سازگار ہوں، وسائل دستیاب ہوں۔ بونی میں ان حالات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ دانستہ طور اداروں کو ہراساں کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں اور ایسے حالات میں شائد ہی کوئی ادارہ کیونکر ایسے لوگوں کے ساتھ کام کرے جو خود اپنے معاملات سے پہلو تہی کرتے ہوں۔ اس تمام صورتحال میں یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ بونی میں مسئلہ یہ نہیں کہ دومادومی بجلی گھر بجلی نہیں دے رہی بلکہ اصل بات یہ ہے کہ لوگ چاہتے ہیں کہ معیار اور مقدار والی بجلی انہیں بھی دی جائے تاکہ انہیں بھی ناقص بجلی سے نجات ملے۔