200

استارو پل کے حوالے سے عوامی مطالبات منظور کرنے پر صوبائی حکومت اور فوجی حکام کا شکریہ ادا کرتا ہوں/سلطان وزیر

چترال(بشیر حسین آزاد)معروف سیاسی رہنما سابق کمشنر ریونیو سلطان وزیر نے تورکہو عوامی مطالبات کی شنوائی اور ہنگامی اقدامات کے لئے وزیراعلیٰ محمود خان اور فوجی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔اپنے ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ 15دسمبر2020کو وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی وزیرزادہ نے فوجی حکام اور اپر چترال کے ضلعی عہدیداروں کے ہمراہ استارو تورکہو کے مقام پر زیرتعمیر پُل کے سائیٹ کا دورہ کیا ضروری ٹیکنیکل بریفنگ لینے کے بعد ایم پی اے وزیرزادہ اور فوجی حکام نے تورکہو کے عمائیدین کے ساتھ مشورے کے بعد فیصلہ کیا کہ استارو پُل کے زیرتعمیر سائیٹ(کاق لشٹ سائیٹ)پرکام کے رفتار کو تیز کیا جائیگا اور کم از کم ممکن وقت کے اندر معیار کے مطابق جگہ سٹیل پُل کے لئے موزون بنائی جائیگی۔جوں ہی جگہ تعمیر ہوگی سٹیل پُل کو لگایا جائے گا اور ٹریفک بحال کی جائیگی۔اور موسم کی خرابی اور ناموافق حالت کی وجہ سے اگر سٹیل پُل لگانے میں دشواری پیش آئی تو ہر حال میں استارو کا آر سی سی پُل کی جون تک مکمل تعمیر ہوگی اور جون کے مہینے میں اس پُل سے ٹریفک چلائی جائیگی۔عارضی طورپر ٹریفک کی بحالی کیلئے پُرانے استارو روڈ کو 5فٹ کشادہ کیا جارہا ہے اور کام زور وشور سے جاری ہے۔اُنہوں نے کہا کہ معاون خصوصی وزیرزادہ اور ایم پی اے ہدایت الرحمن نے پیمائش کے مطابق زمین مالکان کو معاوضے کی ادائیگی کا یقین دلایاہے۔
سلطان وزیر نے کہا کہ ورکوپ تورکہو اور رائین تورکہو کے زیر تعمیر پُلوں کو جلد از جلد مکمل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی اور سال 2021-22 کے دوران مجوزہ پُل کی تعمیر کا مکمل بندوبست کرنے کا وعدہ بھی کیاگیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اور کمانڈٹ چترال سکاؤٹس علی ظفر نے عوام کو یقین دلایا کہ تورکہو روڈ کو طے شدہ معیار کے مطابق تعمیر کرنے کے کام کی نگرانی کی جائیگی اور عوامی شکایات کے سلسلے میں شاگرام اور تورکہو کے مختلف مقامات پر وقتا فوقتاً عوامی کھلی کچہری منعقد کرنے کا اہتمام کیاجائے گا۔
سلطان وزیر نے کہا کہ ہم چترال کے ایک تعلیم یافتہ اور قابل فرزند وزیرزادہ کو اقلیتی سیٹ دینے اور معاون خصوصی بنانے پر وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ محمود خان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہے ہیں کہ وزیرزادہ کو انشاء اللہ اقلیتی امور کا وزیر بنایا جائے گا۔اُنہوں نے اس اُمید کا بھی اظہار کیا کہ اپر چترال کی ضروریات اور مشکلات کے پیش نظر اپر چترال انتظامیہ کو پوری طرح فعال بنایا جائے گا اور فنڈز مہیا کئے جائینگے۔