90

چترالی طلباء پر تشدد کے واقعہ، وزیر زادہ اور کامران بنگش سے طلبہ و سول سوسائٹی اراکین کی ملاقات،تحقیقات کی یقین دہانی

چترال(بشیر حسین آزاد)پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم طلبہ کے رہائش کا مسئلہ حل ہوگیا اور طلبہ کے ساتھ نارواسلوک کرنے کے عمل کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز جامعہ پشاور ایڈ منسٹریشن نے طلباء کو ہاسٹل خالی کرنیکا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس کے سبب بہت سے دور دراز کے طلباء و طالبات ہاسٹل چھوڑ کر جانے پہ مجبور ہوگئے۔مجبوراً طلباء و طالبات کی سربراہی کرتے ہوئے جب انگلش ڈیپاڑٹمنٹ کے طالب علم عطاء الرحمن اور خیبر لا کالج کے طالب علم خلیق داد یونیورسٹی رجسٹرار کے سامنے اپنی درخواست لے کر گئے تو یونیورسٹی ایڈمنسٹریشن کی جانب سے ان کے ساتھ بدسلوکی اور 4 گھنٹے حبس بے جا میں رکھا گیا۔ اس نانصافی کے خلاف چترالی اسٹوڈنٹ سراپا احتجاج ہوئے، چترال اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن (CSA)، تحریک تحفظ حقوق چترال اور دیگر طلباء تنظیموں نے 28 نومبر کوپشاور پریس کلب کے سامنے احتجاج ریکارڈ کرایا،پیر 30 نومبرکو چترالی طلباء کا وفد جس میں صدر CSA دانیال سیف، عطاء الرحمن، خالق داد، سید صفی اللہ جان ایڈوکیٹ، نوید صافی اور نعمان نے چترال سے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ سے اُن کے دفتر میں ملاقات کیا۔وزیر زادہ نے فوراً اس مسلے کا نوٹس لیا اور طلباء کو یقین دلاتے ہوئے ”ہایر ایجوکیشن اینڈ آرکیوز لائبیریز منسٹر کے پی کامران بنگش سے ملاقات کیاجس پرکامران بنگش نے طلباء پر تشدد کا فوری نوٹس لیا اورواقعے پر شدید مذمت کرتے ہوئے جلد ازجلد تحقیقات کرنے کا حکم دیا۔کامران بنگش نے وائس چانسلر جامعہ پشاور سے تفصیلی بات چیت کے بعد ہاسٹل مکمل بحال کرنے کی ہدایت کی اور طلباء تشدد کی تحقیقات کے احکامات صادر کیے اور واقعے کی رپورٹ طلب کیا اور ساتھ ساتھ چترالی طلباء کی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کی۔یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے معاؤن خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ، وزیر ہائیر ایجوکیشن اینڈ آرکیوز لائبیریز کامران بنگش، صدر CSA دانیال سیف، صدر تحریک تحفظ حقوق چترال پیر مختار اور خادم السلام، صدرپیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن سید ضیاء الدین، میڈیا کے ذمہ داران اور ان تمام بھائیوں اور بہنوں جنہوں نے طلباء وطالبات کے لیے آواز اٹھائی اُن کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے۔