151

تورکھو اور تریچ کی 65ہزار آبادی کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہونے کاخطرہ ہے،استارو پل جلد ازجلد بحال کیا جائے/چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ


چترال (چ،پ) چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے چیئرمین وقاص احمد ایڈوکیٹ اور دوسرے رہنماء مولانا اسرار الدین، شبیر احمد خان، شیخ صلاح الدین، ساجد اللہ ایڈوکیٹ، جمشید احمدو دیگر نے اپر چترال کے تورکھومیں استارو کے مقام پر نالے اوپر عارضی پل کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ علاقے میں موسم سرما شروع ہوچکی ہے اور کسی بھی وقت برفباری ہونے پر تورکھو اور تریچ کی 65ہزار آبادی کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہوجائے گا۔گذشتہ روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آٹھ ماہ پہلے استارو کے مقام پر پل ٹوٹ جانے کے بعد ایک عارضی سڑک کے راستے انتہائی مشکل کے ساتھ ٹریفک چالو تھا جوکہ موسم کی پہلی برفباری کے بعد بند ہوجائے گااور اس میں سڑک کی تنگی کی وجہ سے کسی بھی وقت حادثے کا بھی خطرہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے حکومت کی انتہائی غیر ذمہ دارانہ روئیے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ آٹھ ماہ تک استارو کے مقام پر عارضی پل کی تعمیر کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی جبکہ 20فٹ کے لگ بھگ طویل عارضی پل سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے جس پر 10لاکھ روپے سے زیادہ لاگت نہیں آئے گی۔ چترال ڈویلپمنٹ موومنٹ کے رہنماؤں نے کہاکہ اگر عارضی پل کا انتظام ہنگامی بنیادوں پرنہیں ہوا تو تورکھو اور تریچ کے عوام محصور ہوکر رہ جائیں گے اور انہیں خوراک کی قلت کا بھی سامنا ہوگاجوکہ حکومت کی انتہائی بدنامی کا باعث بنے گا اور محصور عوام کی احتجاج کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر موسم سرما میں سڑک کی تنگی کی وجہ سے کوئی حادثہ رونما ہوجائے تو اس کی ذمہ داری چیف انجینئر، سپرنٹنڈنگ انجینئر اور ایگزیکٹو انجینئر سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ اور ڈی سی اپر چترال پر عائد ہوگی اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ انہوں نے کمانڈنٹ چترال سکاوٹس، کور کمانڈنٹ پشاور اور آرمی چیف سے بھی اپیل کی ہے کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کی صورت میں انجینئرنگ کور کے ذریعے استارو کے مقام پر عارضی اسٹیل پل نصب کیا جائے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا سی ڈی ایم کو چترال دورے کے موقع پر ملاقات کا وقت دے کر ان کے مسائل سننے اور ایک ہفتے کے اندر چترال کے روڈز کی مرمت پر کام شروع کرانے کے وعدے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس امید کا اظہارکیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کو نبھاکر چترالی عوام کا دل جیت لیں گے۔