104

توہین رسالتؐ کے قوانین کو آئینی تحفظ حاصل ہے، کسی کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دینگے/مولانا فضل الرحمن

چترال(بشیرحسین آزاد)جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کی اولین ذمہ داری آئین پاکستان کا تحفظ اور اس پر عملدر آمد ہے مگر بدقسمتی سے حکمران آئین کی بالادستی قائم کرنے میں ناکام ہیں۔ جمعرات کے روز پریڈ گراونڈ چترال میں ختم نبوتؐ کانفرنس کے سلسلے میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت ؐ ملکی آئین کا حصہ ہے مگر ملک کے اندر ایک سوچے سمجھے منصوبہ بندی کے تحت ایسے اقدامات سامنے آرہے ہیں جو کہ مسلمانان پاکستان کے لئے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ایک طرف ملک معاشی طور پر کنگال ہے تو دوسری طرف فرقہ واریت کے فروع کے ذریعے رہی سہی کسر نکالی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج نہ ہماری زندگی محفوظ ہے، نہ عقیدہ ختم نبوتؐ اور عظمت صحابہؓ محفوظ ہے اور نہ اس قوم کا ووٹ محفوظ اور نہ نوجوان کا روزگار محفوظ جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے اور تاجر سے لے کر مزدور اور وکیل اور ڈاکٹر سے لے کر اساتذہ تک سب پریشان ہیں تو مذہبی طبقہ مزید مضطرب ہے اور وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں اور ایسے حالات میں جے یو آئی نے ہی عوام کی ترجمانی کرنے کا بیڑا اٹھایاہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت اس ملک کی آئین کی حفاظت نہیں کرسکتا جبکہ اسلام، پاکستانی قوانین، عقیدہ ختم نبوتؐ کو آئین کا تحفظ حاصل ہے لیکن حکمرانوں نے تمام ذمہ داریوں سے اپنے آ پ کو دستبردار کردیا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے جس کے لئے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران رسولؐ کی ناموس کی دھجیاں اڑانے میں ممدومعاؤن ثابت ہورہے ہیں تو عقیدہ ختم نبوتؐ پر حملہ کرنے والوں اور صحابہ کرامؓ کے ساتھ خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کے لئے ملک کو غیر محفوظ قرار دے کر انہیں باہر جانے کے لئے راستہ فراہم کررہے ہیں جس طرح چند دن قبل اسلام کے خلیفہ اول کے گستاخ کو راتوں رات برطانیہ پہنچادیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ مقتدر قوتین ہمیں ڈرانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ہم کسی کی دھمکیوں سے مرعوب ہونے والے نہیں بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے لوگ ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہم نے نظام کے خلاف کچھ نہیں بولنا لیکن خد ا کی قسم ہے کہ ہم بندوق کی نالی پر اور سولی کے تختے پر بھی ڈنکے کی چوٹ پر غلط کو غلط کہنے سے نہیں گھبرائیں گے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہم امن کے بھی سب سے بڑے داعی ہیں اور وطن کو خونریزی سے ہم نے بچایا ہے اور ملی یکجہتی کے حالات بھی پید اکئے ہیں جبکہ قوم خوب جانتی ہے کہ اس خرابی کے ذمہ دار کون ہیں اور ملکی آئین اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں سے سب باخبر ہیں،ہمارا مقصد ملک میں امن اور خوشحالی ہے مگر بااثر حلقے حالات کو وہاں پر مت لے جائیں کہ قوت برداشت جواب دے جائے اور ہم اٹھ کھڑے ہوجائیں اور سب کو روندڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں ملکی ترقی کا پہیہ جام ہو چکا ہے، عالمی استعمار کے اشاروں پر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کی جارہی ہیں کیونکہ معاشی طور پر کمزور ملک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا جسکی مثال سویت یونین کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ انہوں نے کہ پچھلی حکومتوں میں بڑے بڑے منصوبے شروع کئے جاتے تھے جن میں سی پیک، موٹر ویز شامل تھے جبکہ اس حکومت میں بڑے منصوبوں کو ختم کرکے چھوٹے چھوٹے منصوبے جیسا کہ انڈے، مرغیاں اور کٹے شامل ہیں، دیر چترال کے لئے سی پیک منصوبے کو ختم کیا گیا ہے جوکہ ان کا دیرینہ مطالبہ تھا اور اس منصوبے سے عام آد می کی زندگی بدل جانے والی تھی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت خارجہ پالیسی کے فرنٹ میں بھی مکمل طور پر ناکام ہے جس میں سعودی عرب اور چین جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات اپنی پست ترین درجے پر ہیں اور ناعاقبت اندیشن حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے انڈیا نے کشمیر پر قبضہ کرکے اس کی خصوصی حیثیت کو بھی ختم کردی ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ریاست اپنے شہریوں کو امن اور روزگار فراہم نہیں کرسکتی تو اس ریاست کو غریب عوام سے ٹیکس لینے کا حق بھی نہیں پہنچتا، آج ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزت وناموس بھی محفوظ نہیں ا ور چند روز سے ایک خاتون کے ساتھ موٹر وے میں زیادتی کا چرچا ہے لیکن ایک سال کے اندر ہزاروں خواتین زیادتی کا نشانہ بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسوقت ملک پر بیرونی ایجنٹوں کی حکومت ہے اور ان لوگوں کے حوالے سے نرم گوشہ رکھنا ملک اور عوام کے کیساتھ نا انصافی ہوگی۔ انہوں نے گذشتہ دنوں موٹروے پر خاتون کیساتھ آنے والے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اسے اداروں کی ناکامی قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے پرتپاک استقبال اور کانفرنس میں شرکت پر چترال کے تمام سیاسی جماعتوں، تجار یونین، وکلاء برادری اور معاشرے کے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
ختم نبوت کانفرنس سے جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا عطاء الرحمن، سابق صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان، صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا عطاء الحق درویش، صوبائی سیکرٹری اطلاعات حاجی عبدالجلیل جان، صوبائی نائب امیر مفتی فضل غفور، جے یو آئی چترال کے امیر مولاناعبدالرحمن، سابق ضلع نائب ناظم مولانا عبدالشکور، جے یو آئی اپر چترال کے امیر مولانا شیر کریم شاہ، نائب امیر مولانا فتح الباری نے بھی خطاب کیا۔