71

وزیر اعلیٰ کے معاؤن خصوصی وزیر زادہ نے چترال پولو گراؤنڈ کی تعمیر کے منصوبے کا افتتاح کیا


چترال(محکم الدین)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاؤ ن خصوصی وزیر زادہ نے چترال پولو گراؤنڈ کے تعمیراتی منصوبے کا افتتاح کیا۔ افتتاحی تقریب میں پولو ایسوسی ایشن کے صدر شہزادہ سکندرالملک،ڈسٹرکٹ اسپورٹس آفیسر عبدالرحمت، اکیسین سی اینڈ ڈبلیو، پاکستان تحریک انصاف کے صدر سجاد احمد، سابق صدر عبد اللطیف، معروف پولو پلیئر(ر)صوبیدار میجر مقبول علی خان سمیت پی ٹی آئی کارکنان موجود تھے۔ اس موقع پر افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زادہ نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے بعد اگر کوئی حکمران چترال کے لوگوں کے ساتھ محبت کرتا ہے تو وہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان ہے جنہوں نے دو مرتبہ چترال کو مخصوص نشست پر نمائندگی دی اوراپر چترال کو ضلع بنانے کا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا۔انہوں نے اپر چترال ضلعے کے قیام کو لواری ٹنل کی تعمیر کے بعد سب سے اہم کام قرار دیتے ہوئے کہا یہ اپر چترال کے عوام کادیرینہ مطالبہ تھامگر اسی ضلع کے مطالبے پر سابق پی پی پی کی حکومت میں لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے اور اُنہیں پابند سلاسل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا صوبے کے کسی بھی ضلع سے بڑھ کر چترال کی ترقی چاہتے ہیں جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے چترال کی دیگر ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ پولو کی ترقی کیلئے 13کروڑ روپے کی خطیر فنڈ منظور کی ہے جس سے چترال کے پندرہ پولوگراؤنڈ ز کی تعمیر ومرمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولو چترال کا قدیم کھیل اور ثقافت کا اہم حصہ ہے اور فری سٹائل پولو کی بدولت پوری دنیا میں اس خطے کی پہچان ہے۔معاؤن خصوصی وزیر زادہ نے کہا کہ چترال کے پولو کھلاڑیوں نے انتہائی مشکل حالات کے باوجود اس مہنگے ترین کھیل کو زندہ رکھا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ان کے مسائل بتدریج حل کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں پولو گراؤنڈ کی تعمیر پر ایک کروڑ چوہتر لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے، اگر فنڈ کی کمی ہوئی، تو بیوٹیفیکیشن فنڈ سے مزید فنڈ فراہم کی جائے گی مگر تعمیر کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کو ہدایت کی کہ وہ پولو گراونڈ کمیٹی کے مشورے کے مطابق تعمیر کو ممکن بنائے۔ وزیر زادہ نے کہا کہ سیاحت سابق حکومتوں کی ترجیح نہیں تھی اس لئے انہوں نے کسی بھی کام کو سنجیدہ نہیں لیا۔ پولو گراؤنڈز کی تعمیر اور سڑکوں پر کوئی توجہ نہیں دی، خصوصا کالاش ویلیز روڈ اور گرم چشمہ روڈ کو سیاحت کی بنیاد پر بھی بہتر بنانے کی کوشش نہیں کی۔ آج دس سال حکومت میں رہنے والا ایک نمائندہ مجھے گرم چشمہ میں کالج بنانے کا ٹاسک دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرم چشمہ روڈ ڈراپ کیا گیا تھا تاہم اُسے دوبارہ شامل کر لیا گیا ہے جس پر آٹھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ کالاش ویلیز روڈ آخری مرحلے میں ہے جس پر چار ارب ساٹھ کروڑ رو پے، ارندو روڈ پر ڈھائی ارب، چترال یونیورسٹی پر ڈیڑھ ارب، گولین بحالی پراجیکٹ پر چالیس کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔معاون خصوصی نے کہا کہ میں کمیشن خور نمائندہ نہیں ہوں اس لئے کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ میں چترال کا بیٹا ہوں اور اس کی ترقی میری ترجیح ہے۔ اس موقع پر شہزادہ سکندرالملک اور ڈی ایس او عبد الرحمت نے بھی خطاب کیا۔
بعد ازاں وزیر زادہ نے کوغذی کے مقام پر سیلاب سے متاثرہ چترال ٹاؤن واٹر سپلائی کی ریسٹوریشن پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ جس پر تین کروڑ چھیاسٹھ لاکھ روپے خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے فنڈ کی فراہمی پر وزیر اعلی محمود خان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا۔ کہ ناقص کام کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہمارا ملک ناقص تعمیر اور خزانے کو ضائع کرنے کا متحمل نہیں ہے۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شریف حسین نے وزیر زادہ کی کوششوں کو سراہا۔ اور اس توقع کا اظہار کیا۔ کہ اب کے بار فنڈ ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔