262

تحریک انصاف لوئر چترال کی کابینہ تسلیم نہیں ہے،کارکنوں نے مرکزی قیادت کو تحفظات سے آگاہ کرنے کا فیصلہ کر لیا

چترال(بشیرحسین آزاد)پی ٹی آئی ضلع لویر چترال کی حالیہ اعلان کردہ کابینہ کو مسترد کرتے ہوئے کارکنوں نے پارٹی کی مرکزی قیادت پر واضح کردیا ہے کہ وہ اس پارٹی میں تمام فیصلے کارکنوں کے ذریعے ہی کرائے جائیں اور باہر سے مسلط کردہ قیادت کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اور یہاں پارٹی کی صفوں میں رخنہ اندازی کرنے والوں کے ساتھ کوئی نہیں ہیں جوکہ محض ”تین کا ٹولہ“ہے۔ جمعرات کے روز ایک مقامی ہوٹل کے سبزہ زار میں پارٹی کنونشن کے موقع پر پارٹی کے کارکن اور پارٹی کے لیبر ونگ، اسٹوڈنٹس ونگ، یوتھ ونگ، انصاف ٹیچرز تنظیم کے عہدیداروں نے ایک متفقہ قرارداد اور پارٹی کارکنوں کے جذبات واحساسات کی عکاسی کرنے والی حقائق نامہ اپر چترال سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنما شہزادہ سکندرالملک کے حوالے کیا گیا جوکہ اسلام آ باد میں پارٹی کی بالائی قیادت اور تنظیم نو کے ذمہ دار سیف اللہ خان نیازی کو پہنچادیں گے۔ اس موقع شہزادہ سکندر الملک اور سرتاج احمد خان کے علاوہ پارٹی کے جوشیلے اور دیرینہ کارکن اور رہنماؤں حاجی سلطان محمد، اسرار الدین کسانہ، محمد یعقوب، رضی الدین، نذیر احمد خان، اسرار صبوراور حاجی گل نواز نے خطاب کیا۔ انہوں نے پارٹی کی تنظیم نو کے سلسلے میں یہاں بھیجے گئے بشیر خان لالہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے رشتہ داراور پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلہ کرکے مخلص کارکنوں کو مایوس کیا ہے جس سے پارٹی کی صفوں میں دراڑیں آئی ہیں۔

انہوں نے نومنتخب صدر سجاد احمد خان اور سابق صدر عبداللطیف کو تنقید کا ہدف بناتے ہوئے کہاکہ ماضی میں ایک دوسرے کے انتہائی مخالف اب مفادات کی جنگ میں ایک ہوگئے ہیں جبکہ پارٹی کی صفوں میں اتحاد دونوں نہیں چاہتے اور نہ ہی مسلط کردہ جنرل سیکرٹری ان کا اپنے اپنے آبائی حلقوں میں ووٹ بینک ہے اور نہ یہ بااثر افراد کو پارٹی میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ان کا راستے میں کوئی رکاوٹ نہ بن سکے۔ انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی کا اصل سرمایہ اس کے مخلص کارکن ہیں جن کی رائے کو عزت واحترام دیا جائے اور ایسے افراد کو صدر اور سیکرٹری بناکر ان پر ٹھونس دینا پارٹی کے مفاد میں ہرگز نہیں جن کے نام ہی پارٹی کارکنا ن سے رائے لیتے وقت لسٹ میں شامل نہیں تھے۔ شہزادہ سکندرا لملک نے اس عزم کا اظہارکیاکہ وہ اعلیٰ قیادت تک ان کے جذبات واحساسات کو پہنچانے کی کوشش کریں گے تاکہ ان پر حقیقت حال واضح ہو۔ا نہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ بعض حضرات پارٹی میں نئے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے اور پارٹی کارکنان کی رائے کو اہمیت نہیں دیتے جبکہ عمران خان کی وژن کے مطابق یہ پارٹی خالص جمہوری اقدار پر قائم ہے۔ سرتاج احمد خان نے پارٹی ورکروں کی رائے کو اہمیت اور مقام دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جولوگ پارٹی کو انتشارکا شکار کرتے ہیں، وہ دراصل پارٹی اور علاقے کے غدار ہیں کیونکہ موجودہ حکومت اس علاقے کی ترقی میں مخلص ہے اور ایسے حالات میں ترقی کا عمل متاثر ہوسکتا ہے۔ سرتاج احمد خان نے کہاکہ پارٹی عہدے ان کے لئے کوئی قدر وقیمت نہیں رکھتے اور ان کے نزدیک سب سے قیمتی اثاثہ پارٹی کارکن ہیں جن کی رائے کو اولیت دیاجانا چاہئے۔ انہوں نے واضح کیاکہ وہ پارٹی میں توڑ نہیں بلکہ جوڑ کے لئے درد رکھتے ہیں اور کسی بھی حالت میں اس پر کاربند رہیں گے۔ سابق جنرل سیکرٹری اسرار صبور نے بشیر لالہ کے فیصلے کو کارکنوں کے رائے کے منافی قراردیتے ہوئے کہاکہ وہ تین کے ٹولے کو اہمیت دے کر پارٹی کی شاخوں پر کلہاڑی مارنے کی کوشش کی ہے اور جنہیں انہوں نے مسلط کردیا ہے، ان کے ساتھ آج پارٹی کا کوئی کارکن نہیں ہے اور وہ تن تنہا کھڑے ہیں اور اس گروہ میں شامل عبداللطیف نے گزشتہ الیکشن میں اپنے آبائی حلقہ میں ایم ایم اے کے مقابلے میں صرف 190ووٹ لے سکے تھے۔ حاجی سلطان نے کہاکہ اوپر سے مسلط کردہ قیادت نہیں چل سکتی جبکہ مسلط کردہ صدر سجا د احمد خان میں لیڈرشپ کوالٹی نہیں ہے جوکہ چور دروازے سے ضلعی صدارت حاصل کرلی جبکہ یہ صرف اور صرف پارٹی ورکر کا اختیار ہے۔ اسرارالدین کسانہ نے پراپنی جوش تقریر میں کہاکہ جمہوری پارٹی میں فیصلہ بھی جمہورہی کو کرنا ہے جبکہ (عبداللطیف اور دوسروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہاں پارٹی تنظیم چلانے کی بجائے ایک لمیٹڈ کمپنی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کارکن اپنے ساتھ مزید توہین برداشت نہیں کرسکتا اور شہزادہ سکندرا لملک کی اسلام آباد سے واپسی کے بعد وہ کارکن حتمی فیصلہ کریں گے۔کریم آباد سے سابق ممبر ضلع کونسل یعقوب خان نے کہاکہ لوٹ کوہ سے 13ہزار ووٹ گزشتہ الیکشن پارٹی کومل گئے تھے اور اس کے باوجود ہم پارٹی کو متحد رکھنے کے لئے ہرقسم کی قربانی دینے کا جذبہ رکھتے ہیں اور عہدے اور ٹکٹ ہمارے نزدیک کچھ نہیں۔ رضی الدین نے کہاکہ پارٹی میں مفادی ٹولے کا داخلہ افسوسناک ہے جبکہ عبداللطیف پارٹی کو تقسیم کرنا چاہتا ہے اور اس پارٹی میں آنے والے مخلص شخصیات کے راستے میں انہوں نے ہمیشہ سے رکاوٹیں کھڑی کردی۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر واضح کرتے ہوئے کہاکہ چترال آکر الیکشن میں ووٹ سیف اللہ نیازی اور بشیر لالہ نہیں دیتے اس لئے کارکنوں پر ہی چھوڑ دیا جائے کہ وہ کسے صدر منتخب کرتے ہیں اور اس کا فیصلہ پہلے ہی دے چکے ہیں اور اب اسے مسترد کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں ہونی چاہئے۔ یوتھ ونگ کے صدر نذیر احمد خان نے اس بات پر شدید افسوس کا اظہار کیاکہ انتہائی اکثریت کے ساتھ کارکنوں نے ضلعی کابینہ کے لئے رائے دی تھی لیکن چند مفاد پرستوں کی ایما پر اسے تبدیل کرکے پارٹی کی صفوں میں انتشار پیدا کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیاکہ چترال میں ترقیاتی کاموں اور سرکاری ملازمتوں میں بھرتی میں کرپشن بڑھ گئی ہے جوکہ پارٹی کی سابق قیادت کی نااہلی ہے جبکہ پارٹی کو ایسے لوگوں کے حوالے کیا جارہا ہے جن کے خلاف اس پارٹی کا قیام عمل میں آئی تھی۔ دروش کے حاجی گل نواز نے کہاکہ پارٹی ایک خاندان کی طرح ہوتی ہے جس میں پیدا شدہ تمام اختلافات باہمی گفت وشنید اور بات چیت کے ذریعے حل ہونی چاہئے۔ ضیا ء الرحمن نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دئیے۔