134

چترال ٹاؤن میں پانی کا بحران، محکمہ کی عدم دلچسپی نے عوام کو مشکلات میں ڈال دیا، ضلعی انتظامیہ اور چترال ٹاسک فورس فوری مداخلت کریں

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال ٹاؤن کے سماجی،سیاسی اور عوامی حلقوں نے چترال ٹاسک فورس اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گولین واٹر سپلائی سکیم کی بحالی میں کا کام جلد ازجلد مکمل کیا جائے کیونکہ اس وقت چترال ٹاؤن میں مکینوں کو پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔عوامی حلقوں نے فوجی اور سول حکام کی توجہ چترال ٹاؤن کی80ہزار آبادی کو پینے کے پانی کی مشکلات اور ایک سال گذرنے کے باوجود ٹاؤن کے اہم ترین واٹر سپلائی اسکیم کی بحالی میں ناکامی کی طرف دلاتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ گولین واٹر سپلائی سکیم 2012 میں 54کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوا تھا،اسوقت کے وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی نے چترال ٹاؤن کا اتنا بڑا منصوبہ دیا جو5جولائی2019کے سیلاب کی زد میں بری طرح متاث ہوا اور ابتک بحال نہیں ہوسکا ہے۔سیلاب کے وقت وزیراعظم عمران خان کی بہن خود گولین کی سیاحت پر آئی تھی جنہیں 7جولائی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب زدہ گاؤں سے نکالا گیا۔چترال ٹاؤن واٹر سپلائی سکیم کو بحال کرنا2مہینوں کا کام تھا مگر حکومت نے اس میں پورا سال لگا دیا۔ 11مہینے گذرنے کے باوجود پبلک ہیلتھ انجینئرنگ نے سکیم کی بحالی پر کام شروع نہیں کیا۔چترال ٹاؤن کے عوام پورا سال پانی کی بوند بوند کو ترس کرگزار دیئے،11مہینے گذرنے کے باوجود واٹر سپلائی سکیم تباہ شدہ حالت میں پڑی ہے۔سننے میں آرہا ہے کہ8مہینوں تک صوبائی حکومت نے سکیم کی بحالی کیلئے فنڈ نہیں دئیے۔فنڈ منظور ہونے کے 3مہینے محکمہ پبلک ہیلتھ نے ٹینڈراور ورک آرڈر میں گذار دئیے۔محکمہ کے حکام کو منصوبے کی اہمیت،ہنگامی حالت اور ٹاؤن کے عوام کی مشکلات کا اندازہ ہی نہیں ہے۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گرمیوں میں لوگ باہر نکلیں گے اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا ہوگا، اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی تمام تر ذمہ داری محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ پر عائد ہوگی۔