63

میڈیا کے تمام شعبہ جات کے مسائل حل کئے جائیں گے، وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ویڈیو کانفرنس میں اظہار خیال

اسلام آباد(خبر نگار خصوصی)وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے صحافتی تنظیموں کے اہم عہدے داروں کیساتھ طویل ویڈیو کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے بڑے صبر اور تحمل سے میڈیا کے مسائل اور انکے حل کے لئے طویل مشاوت کی۔وفاقی وزیز اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا کے تمام شعبہ جات کے مسائل حل کئے جائیں گے۔ اس موقع آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی (APRNS) کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے وزیر اطلاعات کو لوکل/ریجنل اخبارات کو درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے تجاویزپیش کیں اور ریجنل کوٹہ فوری بحال کرنے کامطالبہ کیا۔پی ایف یو جے ورکرز کے صدر پرویز شوکت،سابق صدر پی ایف یوجے افضل بٹ،پی ایف یو جے دستور کے صدر حاجی نواز رضا،آزاد گروپ کے قائد وسابق صدر نیشنل پریس کلب شکیل قرار،سابق صدرنیشنل پریس کلب شکیل انجم، پی آر اے کے صدر بزدار سلیمی،سابق صدر راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس دستور مظہر اقبال،ایپنک کے اکرام بخاری،صدیق انظر،آر آئی یو جے کے آصف علی بھٹی اور میڈیا ورکرز کے جنرل سیکرٹری سمیت صحافتی تنظیموں کے اہم رہنماوں نے تجاویز پیش کیں۔تفصیلات کے مطابق آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے کہا ہم شفافیت کی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریجنل اخبارات کا قومی اخبارات سے مقابلہ نہ کیا جائے،ریجنل اخبارات کو آج تک 10فی صد سے زیادہ اشتہارات کا کوٹہ نہیں دیا گیا اور جو ملا ان کی ایڈورٹائزنگ ایجنسیز سے رقم نہیں ملی جبکہ 25فی صد کوٹہ ریجنل اخبارات کا قانونی حق ہے، یہ حق سیاسی مقاصد کے لئے بڑے اخبارات کو دیا جاتا رہا ہے اور اب غیر قانونی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس کی شفاف تحقیقات کرائی جائے۔ریگولر چھپنے والے ریجنل اخبارات کو سپورٹ کیا جائے ریجنل اخبارات یوسی سطح تک محلہ سوسائٹیوں،سکولز،نمبردار، کونسلر،ناظم،چیرمین اور عام آدمی کی آواز ہیں اور حکومت اور عام آدمی میں پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔آل پاکستان ریجنل نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر غلام مرتضیٰ جٹ نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان،آزاد کشمیر،سندھ،خیبر پختونخوا، بلوچستان، جنوبی پنجاب،پنجاب کے لوکل/ریجنل اخبارات سے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی چل رہی ہے، یہ اخبارات پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں اور گلی محلہ تک بلا معاوضہ شعور و آگاہی کا کام کر رہے ہیں،اگر ان میں کوئی کمی کوتاہی ہے تو حکومت ان کے لئے ساز گار ماحول پیدا کرے،وزارت اطلاعات تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرے اور ان قلم کاروں سے ملک وقوم کی نظریاتی تربیت سمیت دیگر تخلیقی کام لے۔حکومت پیرامیٹرز بنائے ہم اس پر پورے ملک میں عمل درامد کروائیں گے۔حالانکہ پریس آرڈیننس 2002میں تمام ضابطے موجود ہیں۔ حکومت ریجنل اخبارات کے لئے ABCسمیت میڈیا لسٹ کے طریقہ کار کو آسان بنائے۔پریس کونسل آف پاکستان کی فیس ختم کی جائے۔خیبر پختونخوا میں رجسٹریشن فیس کا خاتمہ کیا جائے۔پنجاب میں عدالتی اشتہارات بحال کروائے جائیں۔گلگت بلتستان کے اخبارات کے واجبات دلوائے جائیں۔ملک بھر کے ریجنل اخبارات کے لئے پرنٹنگ پریسز لگائی جائیں،ایڈورٹائزنگ ایجنسیز سے تمام واجبات عید سے قبل دلوائے جائیں۔ریجنل اخبارات کے زمہ داروں کو ریلوے میں خصوصی ڈسکاونٹ دلوایا جائے۔تمام صحافتی تنظیموں کی مشاورت کے بعد میڈیا کا قانونی ضابطہ اخلاق بنایا جائے