109

پی ٹی آئی اپر چترال کے کابینہ کا پہلا اجلاس،پارٹی کو منظم کرنے کے لئے اتحاو اتفاق کا عہد،عوامی مسائل کے حوالے سے ڈی سی سے ملاقات کی گئی

اپرچترال(بشیر حسین آزاد)پاکستان تحریک انصاف ضلع اپر چترال کے نو منتخب اراکین کے نوٹیفیکیشن کے بعد پہلااجلاس ضلعی صدر رحمت غازی کی صدارت میں بونی میں منعقد ہوا جس میں نو منتخب اراکین نے ایک دوسرے کو مبارکباددی اور آئندہ کیلئے باہم اتفاق و اتحاد سے کام کرنے اور نئے ضلع کو درپیش چیلنجز اور ملک میں کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے حالات سے نمٹنے کا عزم کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں کابینہ اراکین نے موجودہ صورتحال میں عوام کو درپیش مسائل پر مشاورت کی۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کے ضلعی کابینہ کے اراکین نے ڈپٹی کمشنر اپر چترال کے ساتھ ملاقات کیا جس میں کورونا وائرس کے حالیہ صورتحال میں اقدامات اور مختلف مسائل زیر غور آئے۔پی ٹی آئی کے وفد نے اپر چترال کے مسائل جن میں یارخون،تورکہو،موڑکہو کے یوٹیلیٹی اسٹورز میں اشیائے خوردنوش خصوصاً آٹا کی عدم دستابی کی بابت ڈی سی اپر چترال کو آگا ہ کرکے انسے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ان علاقوں کے سٹورز میں اشیاء خوردونوش کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔اس موقع پر ڈی سی اپر چترال شاہ سعود نے یوٹیلیٹی اسٹورز چترال کے ریجنل منیجر شفیق احمد سے بات کی اور یقین دلایا کہ جلد از جلدیوٹیلٹی اسٹورزمیں آٹا سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی دستیابی عمل میں لائی جائے گی۔پی ٹی آئی کے وفد نے اپر چترال میں موجود قرنطینہ سنٹرز اور ان سنٹرز میں رہنے والوں کی طرف سے شکایات سے ڈی سی کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ سنٹر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور کھانا بھی معیار کے مطابق میسر نہیں۔اس حوالے ڈپٹی کمشنر نے وفد کو بتایا کہ چونکہ چترال اپر ایک نیا ضلع ہے اس کے پاس وسائل نہ ہونے کے برابر ہے لیکن پھر بھی ہم اپنے بساط سے بڑھکر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس حوالے سے اے کے ایچ ایس پی چترال،اسماعیلی کونسل اپر چترال اور رضاکاروں کا ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کیساتھ مکمل طور پر بھرپور تعاون کررہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اپر چترال میں ہسپتال میں ایک بھی ونٹیلیٹر موجود نہیں ہے۔اس کے لئے AKHSP تین ونٹیلیٹرز کا اپر چترال کو دینے اور بونی میں قائم ہائیر سیکنڈری سکول کے ہاسٹل کوآئسولیشن سنٹر بناکر ایڈمنسٹریشن کو حوالہ کرنے کی ذمہ داری لی جس کیلئے ضلعی انتظامیہ مذکورہ ادارے کا مشکور ہیں۔اجلاس میں تورکہو روڈ کی جلد از جلد بحالی کا بھی پُرزور مطالبہ کیا گیا۔(۱ مئی