204

آل پارٹیز میں جے یو آئی کو نظر اندازکرکے قیادت کو اس مشاورت سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی/قاری جمال عبدالناصر

چترال(نامہ نگار)جمعیت علماء اسلام ضلع لوئر چترال کے نائب امیرو معروف مذہبی شخصیت قاری جمال عبدالناصر نے ایک بیان میں کہاہے کہ لواری ٹنل کی دس دنوں تک بند کرنے کا مطالبہ اگرچہ ہمارے اکثر سیاسی جماعتوں کے زمہ داران کی طرف سے کیا گیا ہے ہم اپنے سیاسی قایدین کی گرانقد رائے کا احترام کرتے ہوئے کچھ زمینی حقایق کو پرکھنے کی جستوجو کرنا مناسب سمجھتے ہیں سب سے اہم بات اس اہم نوعیت کے سیاسی اجلاس جسے ہمارے محترم وزیر زادہ صاحب نے آل پارٹیز کا نام دے کربلایا تھا اس اجلاس میں جمعیت علماء اسلام کو کس بناء پر دعوت نہیں دی گئی اس بارے میں وزیر زادہ صاحب ہی بہتر معلومات رکھتے ہیں کہ وہ کیا عوامل تھے جن کی بناء پر وزیر زادہ صاحب نے جمعیت کی قیادت کو اس مشاورت سے دور رکھنے کی کوشش کی۔ یہ وقت آنے پر پتہ چلے گا کہ چترال میں جمعیت کی اہمیت کتنی ہے بغیر جمعیت کے مشاورت کے نتائیج کیا نکلتے ہیں البتہ جمعیت کے بغیر آل پارٹیز اجلاس کا نام دینا مناسب نہیں ہوگا جبکہ آل کے بجائے سیاسی جماعتوں کا لفظ استعمال کیا جا نا بہتر ہے۔انہوں نے کہاکہ لواری ٹنل کی بندش اس بنیاد پر کہ چترال کے قرنطینہ سنٹرز میں جگہ کی کمی ہے دس دن بعد سنٹر خالی ہونگے پھر عید کے لئے گھروں کو آنے والوں کو قرنطینہ میں منتقل کردیا جائیگا ٹنل بند کرنے کی پرکٹس پہلے بھی شروع کی گئی تھی لیکن کئی وجوہات کی بناء پر نا کامی کا سامنا ہوا کیوں کہ بہت زیادہ لوگ پیدل ٹنل کراس کرکے چوری چھپے اپنی مجبوریوں کی بناء پر چترال پہنچ گئے، اگر چہ ان میں سے بعض لوگوں کو قرنطینہ میں جانا بھی پڑا کیوں کہ مجبور لوگ ٹاپ سے نیچے دربدر ہونے سے چترال میں قرنطینہ سنٹر کو اولیت دے رہے تھے۔ اب یہ بات کہ قرنطینہ سنٹر میں گنجائش دس دن بعد ممکن ہوگی مجھے کچھ عجیب لگتا ہے۔ کیا قرنطینہ سنٹروں میں موجود لوگ ایک ہی دن میں سارے کے سارے آئے تھے یا مختلف ایام میں روزانہ کی بنیادوں پر مختلف تعداد میں آتے رہتے ہیں اور ان کی واپسی بھی روزانہ کی بنیادوں پر آئے ہوئے تعداد کے مطابق ہوتی رہے گی،اگر ایسا ہے تو روزانہ کی بنیادوں پر اسی تعداد کے مطابق دخول اور اخراج کا سلسلہ جاری رہئیگا، دس دن متواتر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی البتہ موجودتعداد کے تاریخ فراغت کو دیکھ کر ایک دن یا دو دن کا وقفہ کیا جاناممکن ہے اور قرنطینہ سنٹروں پر بوجھ کم کرنے کے لئے 25فیصد صاحب ثروت لوگوں کے اپنے گھروں کو بھی ان کے اپنے اخراجات پر قرنطینہ سنٹر مقرر کیا جا سکتاہے اگر وہ قومی زمہ داری کی انجام دہی کے لئے صدق دل سے بیان حلفی کے ساتھ تیار ہوں اور ممکنہ سرکاری اہل کار کی ڈیوٹی دینے اور اس کی اخراجات برداشت کرنے پر راضی ہوں اس کے علاوہ ٹنل دس دن بند کرنے سے اس مبارک مہینے میں نیا بحران پیدا ہونے کے زیادہ امکانات ہو سکتے ہیں پھر چوری چھپے قرنطینہ سے بچکر گاوں پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوگا دس دنوں میں قرنطینہ مکمل خالی ہونگے اور آنے والے گھروں میں پہنچ گئے ہونگے سانپ بھی مرا لاٹھی بھی ٹوٹ گئی اور گاوں میں مرض بھی پہنچ گئی لہذا ہمارے سیاسی قیادت معاملات کو مزید پرکھنے کی کوشیش کرے تاکہ نہ سیخ جلے نہ کباب