73

ٹی ایچ کیو ہسپتال بونی میں ڈاکٹروں کی کمی،رات کے وقت ڈاکٹر نہ ہونے پر ایمرجنسی مریض کو چترال پہنچایا گیا

چترال(گل حماد فاروقی) تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں رات کو ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا ہے۔ ہسپتال کے سامنے ایک نوٹس چسپان کرکے عوام کو مطلع کیا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کی کمی کی وجہ سے رات آٹھ بجے سے صبح آٹھ بجے تک کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوگا اور اتوار کے دن بھی دن کے وقت بھی ڈاکٹر نہیں ہوگا۔
بونی سے تعلق رکھنے والے احمد حسین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اس کا بیٹا عماد حسین جو کلاس ششم کا طالب علم ہے، ان کو اچانک پیٹ میں درد ہوا، بچے کو کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال بونی لے جایا گیا اور اسے داخل کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مریض بچہ شدید درد کی وجہ سے اضطراب میں مبتلا تھا مگر پوری رات کوئی ڈاکٹر معائنے کے لئے نہیں آیا۔ مجبوراًبچے کو اٹھا کر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال چترال لایا جہاں پہنچتے ہی ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کو اپنڈکس ہے اور شام کو ہی ایمرجنسی میں اس کا آپریشن ہوا۔
عماد حسین نے بتایا کہ ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ اگر یہ ایک گھنٹہ بھی لیٹ ہوتا تو اس کا اپنڈکس پھٹ جاتا اور اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔
احمد حسین نے کہا کہ یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ایک طرف تبدیلی سرکار صحت کا ایمرجنسی کا دعوے کررہی ہے اور دوسری طرف بونی کی تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں صرف تین ڈاکٹرز ہیں جبکہ رات کے وقت علاقے کے اس بڑے ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر میں اپنے بچے کو چترال ہسپتال نہ لاتا تو اس کی جان بھی جاسکتی تھی۔
انہوں نے صوبائی حکومت اور تبدیلی سرکار سے مطالبہ کیا کہ بونی کے اتنے بڑے ہسپتال جو اب ضلع بننے کے بعد یہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹز ہستپال ہونا چاہئے مگر اس میں گیارہ کی بجائے صرف تین ڈاکٹر کام کررہے ہیں اور ابھی تک کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں ہے جس کی وجہ سے لوگ مجبوراً یہاں ایک غیر سرکاری ہسپتال جاکر علاج کراتے ہیں اور وہاں جانا ان کی مجبوری بنتا ہے جہاں بہت مہنگا علاج ہے۔