52

کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کی صدارت میں سول ملٹری لیزان کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا

چترال(بشیر حسین آزاد)چترال ٹاسک فورس کے کمانڈنٹ کرنل معین الدین نے کہا ہے کہ چترال میں فوج اور سول کے درمیان ایک بہترین اور مثالی تعلق کار موجود ہے جس کی وجہ سے عوامی مسائل احسن طریقے سے حل ہورہے ہیں اور امن وامان کو درپیش خطرات بھی پید ا ہونے سے پہلے ہی ختم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گولین گول میں سیلاب کے ناگہانی مسائل اور جشن شندور کا ایک ہی وقت میں انعقاد اس تعلق کار کی بہترین مثال ہے اور یہ سول ملٹری قیادت کا مقامی مسائل پر ایک ہی پیج پر ہونے کے ثمرات ہیں۔ چترال سکاوٹس کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ سول ملٹری لیزان کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کے نوجوانوں کومنشیات کے لعنت سے بچانا، فرقہ ورانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا، کلین اینڈ گرین چترال کے طرف عملی قدم اُٹھانے اور مختلف پروپیگنڈوں کاسدباب کرنے میں اس کمیٹی کا اہم کردار ہوسکتاہے۔ انہوں نے موجودہ حالات کے تناظر میں کہاکہ ہم اپنے بارڈر پر مکمل طور پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورمقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے ہمسایہ ملک کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن ہم مکمل طور پر الرٹ ہیں اور اس میں سویلین کی بھی مکمل تعاون حاصل ہے۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ، ڈی سی لویر چترال نوید احمد،ڈی پی او چترال وسیم ریاض، ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن، اقلیتی ایم پی اے وزیر زادہ کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے افسران اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے، سیاسی رہنما ؤں کرنل (ریٹائرڈ) سردار محمد، مولانا عبدالرحمن، حافظ انعام میمن، نائب ضلع ناظم مولانا محمد شکور، صاحب نادر ایڈوکیٹ، ریاض حسین، ظہیرالدین نے علاقے کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے حل کے لئے تجاویز پیش کئے جن کا تعلق بجلی اور صاف پانی کی فراہمی، ضلعے کے اندرمختلف سڑکوں کی خستہ حالی اور سی اینڈ ڈبلیو اور این ایچ اے کے حکام کی مسلسل خاموشی اور اس کے نتیجے میں عوامی بے چینی پیدا ہونے اور حالات کے خراب ہونے کی طرف توجہ دلائی گئی۔ اس موقع پر موجود سی اینڈ ڈبلیو، محکمہ صحت اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے افسران نے اپنے اپنے محکمہ جات کی طرف سے پوزیشن واضح کئے۔ اس موقع پر اس بات کا سختی سے نوٹس لیا گیا کہ بعض عناصر سوشل میڈیا کو منفی اندازمیں استعمال کرکے امن وامان کی حالت کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور ایسے افراد کوئی رورعایت اور نرمی کے مستحق نہیں اور ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹاجائے گا۔