70

دروش ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹرز کی تعیناتی اور گرلز کالج میں کلاسوں کے اجراء کیلئے تحریک چلائینگے/قاری جمال عبدالناصر

دروش(نامہ نگار)جمعیت علماء اسلام چترال کے سینئر نائب امیر قاری جمال عبدالناصر نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ دروش کے دو اہم ترین اور جائز مطالبات کے لئے بار بار حکومت سے درخواست کی گئی مگر کسی نے اس طر ف توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ دروش اور ارندو تحصیل کی تقریبا ً ایک لاکھ کی آبادی کیلئے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش قائم ہے مگر اس بڑے ہسپتال میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں، چند مہینے پہلے اس ہسپتال میں تین لیڈی ڈاکٹرز تعینات تھے مگر انکا تبادلہ ہوا جس کے بعد یہاں پر تعینات ہونے والے ایک لیڈی ڈاکٹر نے صرف ایک دن ڈیوٹی کرکے اگلے دن اپنا تبادلہ کرایا جبکہ بعد میں تعینات ہونے والے ایک لیڈی ڈاکٹر نے چند مہینے ڈیوٹی کرنے کے بعد اپنا تبادلہ کرایا اور اب ہسپتال میں ایک بھی لیڈی ڈاکٹر نہیں جسکی وجہ سے خواتین مریضوں کو شدید مشکلا ت کا سامنا ہے۔خواتین کا بار بار اصرار ہوتا ہے کہ جب اس ہسپتال میں باپردہ خواتین کے علاج معالجے اور طبی معائنے کے لئے خدمات دستیاب نہیں تو اس سے بہتر ہے کہ اس ہسپتال کو تالا لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی مہینوں سے طفل تسلیوں سے کام چلا یا گیا ہے مگر اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اس ضمن میں ایک بھرپور عوامی احتجاج شروع کیا جائے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے قومی نمائندے اور اعلیٰ سول حکام بھی ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ کوئی اس مسئلے کو حل کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے لہذا23اگست بروز جمعتہ المبارک دروش ہسپتال کے سبزہ زار میں اس اہم مسئلے کے لئے عمایدین دروش کا اجلاس ہوگا اجلاس میں اس سلسلے میں مستقل احتجاج کے لئے عوام دروش کو کال دی جائی جائیگی۔
قاری جمال عبدالناصر نے کہا کہ دروش کا دوسرا اہم مسئلہ دروش زنانہ کالج میں کلاسز شروع کرنے میں عمداًتاخیر کا ہے جس سے دروش کی تعلیم حاصل کرنے والی بیٹیوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے جبکہ کالج کی گاڑی اور فرنیچر پہنچ چکے ہیں بلڈنگ بھی تیار ہے اب فرسٹ ائیر داخلہ کے ایام ہیں لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ اُنہوں نے ہائیر ایجوکیشن سے فوری طور پر بلڈنگ چارچ لیکر کلاسیں شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا بصورت دیگر زنانہ کالج بلڈنگ کا افتتاح دھرنا تحریک سے کیا جائیگا پھر نا کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔