88

صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں مبینہ تاخیری حربے؛ الیکشن کمیشن آف پاکستان محکمہ بلدیات سے نالاں

پشاور(م،ڈ)الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کرنے پرمحکمہ بلدیات کی کارکردگی پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے جبکہ 5اگست کو طلب کئے گئے اجلاس میں محکمہ بلدیات کے نمائندے کی شرکت لازمی قرار دے دی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے محکمہ بلدیات کو بھیجے گئے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 17جولائی کو الیکشن کمیشن اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ میاں عادل اقبال نے شرکت کی تھی، اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل سے ضروری دستاویزات اور اعلامیے طلب کئے گئے تھے اور یکم اگست تک اجلاس ملتوی کر دیا گیا تھا تاہم محکمہ بلدیات کی جانب سے یکم اگست کے اجلاس میں نہ تو کوئی نمائندہ شریک ہوا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کے احکامات کے مطابق دستاویزات فراہم کی گئی ہیں جس پر الیکشن کمیشن ارکان نے سخت نا پسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔مراسلے میں محکمہ بلدیات پر واضح کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں 5اگست کو ہونے والے اجلاس میں محکمہ بلدیات کی جانب سے نمائندگی لازمی ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو مطلوب تمام دستاویزات اجلاس میں لانا بھی ضروری ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور الیکشن کمیشن رواں برس صوبے میں بلدیاتی انتخابات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 28اگست کو موجودہ بلدیاتی نظام کی مدت ختم ہونے کے 120روز کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔