71

دروش پولیس نے ذاکراحمدکے اندھے قتل کا سراغ لگا کر مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا،مزید تفتیش جاری

چترال(محکم الدین) دروش پولیس نے گذشتہ روز کیسو کے مقام پر قتل ہونے والے ذاکر احمد ساکن ایون موڑدہ کے پانچ قاتلوں کو گرفتار کر لیا ہے تاہم ایک مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا ہے جس کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں محمد حضرت ولد شیر اعظم،نعیم الہادی ولد پیر محمد،ضیا الرحمن و ثناء الرحمن پسران مستجب خان اور عقیل احمد ولد پیر محمد ساکنان کیسو گول شامل ہیں جبکہ مرکزی ملزم فضل ہادی ولد ولی محمد کی گرفتاری تاحال عمل میں نہیں آ ئی ہے اور مزید تفتیش جارہی ہے۔واضح رہے کہ ذاکر احمد ولد میاں گل گذشتہ عید کو اپنے رشتے داروں سے ملنے کیسو گیا تھاجہاں انہیں موبائل پرکال کرکے رشتے دار کے گھر سے باہربلایا گیاجس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا تھالیکن چار دن بعد اس کی مسخ شدہ لاش کیسو کے قریب ایک برساتی نالے میں دریائے چترال کے کنارے پر انتہائی مخدوش حالت میں ملی تھی، پولیس نے مقدمہ درج کرکے پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثاء کے حوالے کردیا تھا جسے بعد ازاں آبائی قبرستان ایون موڑدہ میں سپردخاک کیا گیا۔


درین اثنا مقتول کے بڑے بھائی محمد ایاز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بھائی بے قصور ہے اور اسے باقاعدہ ایک سازش کے تحت قتل کیا گیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا،آئی جی پی خیبر پخونخوا اور دیگر متعلقہ حکام سے انصاف کے فراہمی کی اپیل کی۔انہوں نے کہاکہ ان کے بھائی کے قتل کا مرکزی ملزم فضل ہادی جو ایک ذمہ دار ادارے میں ملازم ہے کی پشت پناہی کی جارہی ہے اور اسے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہاکہ ان کا پولیس پر بھر پور اعتماد ہے کہ اس حوالے سے تمام تر قانونی تقاضے پورے کرکے متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔انہوں نے کہاکہ وہ واقعے کے اصل محرکات سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں کہ کس نے بار بار کال کرکے میرے بھائی کوبلایااور اس کو قتل کرایا۔انہوں نے کہاکہ ٹیکنالوجی نے ایسے واقعات کو سامنے لانے میں آسانی پیدا کردی ہیاور متعلقہ ادارے اس کو بہتر طور پر جانتے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پولیس تمام ملزمان کوگرفتار کرے گی اور اس قتل کا سبب بننے والی کو بھی کٹہرے میں لایا جائے گا۔محمد ایاز مقتول کے تین سال اور دو ماہ کی دونوں بچیوں کو گود میں لئے زارو قطار روتے ہوئے کہاکہ ان معصوم بچیوں کو یتیم بنایا گیا ہے ان کو انصاف فراہم کرنا پولیس، حکومت اور عدلیہ کا کام ہے اور وہ اس کا انتظار کر رہے ہیں۔