77

جرائم کے خلاف جدوجہد میں عوام کا تعاؤن اہمیت کا حامل ہے/ڈی آئی جی محمد سعید وزیر

چترال(نذیرحسین شاہ)ملاکنڈ ڈویژن کے ریجنل پولیس آفیسر محمد سعید وزیرنے سماجی برائیوں اور جرائم کے روک تھام میں سول سوسائٹی کردار کو نہایت اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے زوردیا کہ اس سلسلے میں پولیس کیساتھ تعاؤن کو بڑھایا جائے۔ چترال ٹاؤن ہال میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے محمد سعید وزیر نے کہا کہ معاشرے میں جرائم کو روکنے کے لئے قانون کا شکنجہ آخری حربہ ہوتا ہے لیکن اس سے پہلے معاشرے میں جرائم اور دیگر برائیوں کا روکنے کا عمل ہونا ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال مثالی طور پر ایک پر امن علاقہ ہے اور یہاں کے پر امن معاشرے سے منشیات کی لعنت کو ختم کرنے کے سلسلے میں پولیس کی کوششوں میں عوام کا ساتھ ہونا نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اکیلے پولیس اس سلسلے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ڈی آئی جی سعید وزیر نے کہا کہ لواری ٹنل کی تکمیل کے ساتھ جہاں چترال میں معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی امید ہے وہیں اس علاقے کی ثقافت اور پرا من معاشرے کو چیلنجز بھی درپیش ہو گئے ہیں اور ان حالات میں مقامی لوگوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنا کردار مثبت انداز میں نبھائیں ۔ انہوں نے کہا کہ چترال جیسے خوبصورت علاقے میں منشیات کا مسئلہ درپیش نہیں ہونا چاہئے تھا ، منشیات کی وجہ سے معاشرتی اقدار بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے اب چرس کے عادی افراد کی پکڑ دھکڑ کے بجائے اس کاروبار میں ملوث مافیااور ان کے کارندوں پر ہاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اس کاسدباب ہوسکے ۔ انہوں نے کہاکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کادشمن ہم میں دراڑ ڈال کر تقسیم کرنے کے درپے ہے جس سے ہمیں باخبر رہنا چاہئے اور اس سازش کی بنیاد قوم میں افواج کے خلاف نفرت پیدا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے چترال سے تعلق رکھنے والے تمام لیڈ ی پولیس سپاہیوں کو دوسرے اضلاع سے چترال ٹرانسفر کرنے، چترال کے پولیس افسران کو ممکنہ طور پر چترال میں ایڈجسٹ کرنے اور چترال کے تمام تھانہ جات میں کی مخدوش عمارات کی تعمیر نو کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ پولیس کا عوام کے ساتھ رویہ مزید بہتربنانے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی۔ اس سے قبل ڈسٹرکٹ ناظم مغفرت شاہ نے ریجنل پولیس آفیسر کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ چترال پولیس اپنی مثال آپ ہے جوکہ بروغل اور اس جیسے دوردراز اور دورافتادہ علاقوں میں فرائض منصبی انجام دے رہی ہے جبکہ اس کی تاریخ بھی شاندار ہے جس کے افسران اور جوانوں نے ملاکنڈ میں انتہائی نامساعد حالات میں بھی اپنا لوہا منوالیا۔ ضلع ناظم نے کہاکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی چترال پولیس کو بھی اس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا ہے کیونکہ چترال پانچ لاکھ افراد کی آبادی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل کلچر کا مجموعہ ہے جوکہ اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ اس موقع پرنائب ضلع ناظم مولانا عبدالشکور کے علاوہ سول سوسائٹی کے نمائندے صدر تجار یونین شبیر احمد،عبدالولی خان ایڈوکیٹ،سابق ایم پی اے سید احمد خان ، وقاص احمد ایڈوکیٹ، ساجد اللہ ایڈوکیٹ، محمد حکیم ایڈوکیٹ، قاری جمال عبدا لناصر، حسین احمد، قلندر شاہ، نابیک شراکٹ کالاش ایڈوکیٹ، عبداللطیف، نوید احمد بیگ، قاضی نسیم اور دوسروں نے عوام کو درپیش مسائل بیان کئے۔ ضلع ناظم نے تجاریونین کی طرف سے مہمان کو چترال کا روایتی تحفہ چغہ اور چترالی ٹوپی پیش کی۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد فرقان بلال بھی اس موقع پرموجود تھے۔