100

چیف سیکرٹری،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹری صحت نے چترال کا دورہ کیا

چترال(گل حماد فاروقی)چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا نوید کامران بلوچ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزاد خان بنگش ، صوبائی سیکرٹری محکمہ صحت ڈاکٹر فاروق اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام نے چترال کے بالائی علاقوں میں ہسپتالوں کا معائنہ کیا ان کی دورے کی بنیادی مقصد چترال میں تین سرکاری ہسپتا ل جو آغاخان ہیلتھ سروس کو دئے گئے ہیں ان کی میعاد میں مزید پانچ سال کی اضافے کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔
سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹر سید فاروق جمیل نے بعد میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال کا بھی معائنہ کیا ۔ ان کے دورے کے موقع پر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر رحمت آفریدی نے ان کو بریفنگ دی اور مختلف وارڈز اور سیکشن کا معائنہ کروایا۔ ڈاکٹر رحمت نے بتایا کہ DHQ ہسپتال میں 21 سپیشلسٹ ڈاکٹرز اور 40 کے قریب میڈیکل آفیسرز اور دیگر آسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سپیشلسٹ ڈاکٹر دو سال قبل ریٹائر ہوئے ہے مگر ابھی تک کسی ڈاکٹر کی تعیناتی نہیں ہوئی ہے، اس کے علاوہ پورے چترال میں آرتھوپیڈک سرجن، کارڈیالوجسٹ ، سائکاٹرسٹ اور دیگر سپیشلسٹ ڈاکٹر نہیں ہیں اور ان مریضوں کو پشاور ریفر کیا جاتا ہے جس پر بہت لاگت آنے کے ساتھ ساتھ راستے کی تکلیف بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سیکرٹری ہیلتھ نے جنگ بازار میں زنانہ اور بچوں کے ہسپتال کا بھی معائنہ کیا اس موقع پر ان کو بریفنگ دی گئی کہ ہسپتالوں میں جدید مشنریوں کی کمی ہے ، اگر یہاں سامان ، مشینری وغیرہ مہیا کئے جائیں تو اس سے مریضوں کو کافی سہولت میسر آئینگی ۔
سیکرٹری ہیلتھ نے ہمارے نمائندے سے خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دورے کا بنیادی مقصد ایسے دور دراز علاقوں میں واقع ہسپتالوں کا معائنہ کرنا تھا جہاں عام طور پر اعلیٰ عہدوں پر تعین افسران نہیں آتے تاکہ ان کا حالات دیکھ کر عوام کی مسائل حل کیا جاسکے۔
سیکرٹری ہیلتھ نے کہا کہ چترال کے اکثر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں بلکہ بعض ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں ہے مگر ہماری کوشش ہوگی کہ ان ہسپتالوں میں ڈاکٹر جلد سے جلد بھیج دیں۔
ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ پورے دنیا میں پبلک پرائیویٹ پریکٹس ہورہی ہے ۔ ہمار ی بھی کوشش ہے کہ ان ہسپتالوں کو پرائیویٹ سیکٹر کو دے دیں تاکہ مریضوں کو بہتر سہولیات میسر ہوسکے۔
بعد میں انہوں نے شاہی قلعہ کا بھی دورہ کیا جہاں چترال کے روایات کے مطابق تمام مہمانوں کو چترالی چوغہ اور ٹوپی پیش کئے گئے۔