اقوامِ عالم میں پاکستان کی نئی پوزیشن/تحریر: کے اے جمیل

ادارے کا کسی مراسلہ نگار/مضمون نویس کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، ہر مراسلے یا مضمون کے مندرجات فاضل مصنف کے خیالات، رائے اور تجزیہ سمجھے جائیں (ادارہ)

اشتہارات

عالمی سیاست میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جو قوموں کی سمت ہی بدل دیتے ہیں۔ آج پاکستان اسی نوعیت کے ایک تاریخی موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

جی ہاں! وہ پاکستان جس کے بارے میں کچھ عرصہ قبل یہ تاثر عام کیا جا رہا تھا کہ وہ سفارتی تنہائی کا شکار ہے، عالمی برادری میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہی، معیشت دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے اور اس کے حکمران دنیا میں امداد کے کشکول لیے پھرتے ہیں، مگر آج پاکستان بالکل ایک الگ تصویر پیش کر رہا ہے۔

یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں بلکہ ایک "اسٹریٹجک ری برانڈنگ” ہے، جو صرف بیانات یا دعوؤں کی حد تک نہیں بلکہ زمینی حقائق، سفارتی سرگرمیوں اور دفاعی معاہدات کی صورت میں دنیا کے سامنے آ رہی ہے۔ واقعی یہ قول سچ ثابت ہو رہا ہے کہ کبھی کبھی "شر سے خیر نکل آتا ہے”۔

گزشتہ سال مئی کے مہینے میں بھارت نے تکبرانہ انداز میں جارحیت کا ارتکاب کیا۔ دنیا جہاں کو ایسا لگ رہا تھا کہ "پاکستان کو ہڑپ” کر جائے گا، مگر بھارت کو دندان شکست دینے کی وجہ سے "معرکۂ حق” نے پاکستان کو نہ صرف عسکری میدان میں سرخرو کیا بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی نئی زندگی دی۔

چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ بیان کہ "معرکۂ حق میں ہم نے اللہ کی نصرت کو آتے دیکھا اور محسوس کیا” محض ایک جذباتی جملہ نہیں بلکہ اس کے اثرات آج عالمی سیاست میں پاکستان کی بدلتی حیثیت کی صورت میں نمایاں ہو رہے ہیں۔

پاکستان کی ان کامیابیوں  نے بھارت کو سفارتی، سیاسی اور دفاعی محاذ پر کوسوں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ خود بھارتی ماہرین بھی مودی سرکار کی ناکامی پر نوحہ کناں ہیں اور اسوقت ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے میں لگے ہوئے مگر انکے ہاتھ کچھ نہ آرہا۔

اگر غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ عالمی پوزیشن گزشتہ چار دہائیوں میں اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ خاص طور پر سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک محاذ پر پاکستان ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے۔

اب پاکستان جنوبی ایشیا سے نکل کر خلیج اور یہاں تک کہ افریقہ کے مسلم ممالک میں بھی نمایاں کردار کا حامل بن گیا ہے۔ پاکستان کی کامیابی نے اسے مسلم دنیا میں ایک حقیقی "لیڈر” اور محافظ کے طور پر پیش کیا ہے، جس کا برملا اظہار عالمی سطح کے تجزیہ کار بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین طے پانے والا دفاعی معاہدہ اس بدلتی عالمی صف بندی کی سب سے واضح مثال ہے۔ اس معاہدے کے بعد ترکی، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، اردن، لیبیا، متحدہ عرب امارات، عراق، ایران اور آذربائیجان جیسے ممالک کے اعلیٰ حکام اور سربراہانِ مملکت کی پاکستان آمد محض سفارتی خیرسگالی نہیں بلکہ ایک گہرے اسٹریٹجک اعتماد کا اظہار ہے۔

متعدد ممالک پاکستان کے ساتھ دفاعی سازوسامان، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور عسکری تربیت کے معاہدے کر چکے ہیں، جبکہ سری لنکا اور نیپال جیسے ممالک بھی پاکستانی دفاعی مصنوعات کی خریداری میں سنجیدہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

اس تمام صورتحال نے اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ پاکستان اب صرف "دفاعی خریدار” نہیں بلکہ دفاعی شعبے میں ایک قابلِ بھروسہ "پروڈیوسر اور سپلائر” بن چکا ہے۔ پاکستان دفاعی شعبے میں نہ صرف جدید لڑاکا جہازوں کے سودے کر رہا ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے حامل ڈرونز اور دیگر سازوسامان بھی فراہم کرنے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے بعد اب ترکیہ کی بھی اس معاہدے میں شمولیت آخری مراحل میں ہے۔ یہ پاکستان کی ہی سفارتکاری ہے جس نے ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ تناؤ اور سفارتی و سیاسی دوری کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان ہی کی سفارتی کوششوں کی بدولت سعودی عرب اور ایران کے درمیان دہائیوں پرانی مخاصمت بلکہ عداوت تقریباً ختم ہو گئی ہے، جس کے ساتھ ہی یمن میں بھی کچھ تبدیلیاں واقع ہو چکی ہیں، جن سے سعودی عرب کے تحفظات کو دور کرنے میں مدد ملی ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنا کر بھارت کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں، اور پاک بنگلہ دیش تعلقات اس وقت 1971ء کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری میں مزید ممالک کی شمولیت سے یہ اتحاد مستقبل میں نیٹو طرز کا، مگر مسلم و ایشیائی تناظر میں، ایک نیا عالمی دفاعی بلاک بن سکتا ہے، جو عالمی توازنِ طاقت میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔

ایران پر اسرائیلی حملے کے دوران پاکستان صفِ اوّل میں آ کر ایران کی حمایت میں نظر آیا، جس کا برملا اظہار ایران کے صدر اور ایرانی پارلیمنٹ نے کیا۔

یہ تمام حقائق اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ پاکستان مسلم دنیا میں ایک مضبوط اور قائدانہ کردار کا حامل ہو چکا ہے۔

سب سے نمایاں تبدیلی یہ ہے کہ اب پاکستانی قیادت کسی ملک کے دروازے پر امداد کے لیے دستک دیتی نظر نہیں آتی، بلکہ برابری کی سطح پر اربوں نہیں بلکہ کھربوں ڈالر کے معاہدات طے پا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی نہ صرف پاکستان کی خود اعتمادی کا اظہار ہے بلکہ عالمی برادری کے بدلتے رویے کی بھی عکاس ہے۔

مختصراً، پاکستان آج ایک نئے عالمی کردار کے ساتھ ابھر رہا ہے، ایک ایسا کردار جو کمزوری، انحصار اور تنہائی کے بجائے استحکام، شراکت داری اور قیادت پر مبنی ہے۔ اگر یہ سمت برقرار رہی تو بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں پاکستان عالمی سیاست میں ایک ناگزیر قوت کے طور پر اپنی حیثیت منوا لے۔

ان تمام کامیابیوں کو دوام دینے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کی طرف بھی بھرپور توجہ مرکوز کی جائے۔ امن و امان پر قابو پانے، گورننس کی بہتری، شفافیت اور جوابدہی، قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ سیاسی معاملات کو بھی  قومی ترجیحات کے تناظر میں طے کرنے کی ضرورت ہے۔

بین السطور یہ بھی ذکر کرتا چلوں کہ پاکستان کا ایک اہم منصوبہ "سی پیک” بھی ہے جو کہ گذشتہ چند سالوں سے سست روی کا شکار ہے، اس پر بھی توجہ دیکر سی پیک منصوبے کو تیز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ منصوبہ خطے میں معاشی استحکام کیلئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے، یقیناً اس منصوبے کو سست روی کا شکار کرنے کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ موجودہ بدلتی ہوئی صورتحال میں "سی پیک” کی اہمیت اور ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔

پاکستان میں سیاسی مسائل اور گورننس کی کمزوری ہی کی وجہ سے دیگر مسائل جنم لیتے ہیں اسلئے سیاسی مفاہمت کو ترجیح دینے کی بھی ضرورت ہے۔