اداریہ— بلوچستان میں غیرت کے نام پر شادی شدہ جوڑے کا بہیمانہ قتل — حکومتی رٹ کا المیہ

بلوچستان کے قبائلی علاقے میں حالیہ دنوں پیش آنے والا ایک اندوہناک واقعہ نہ صرف انسانیت کو شرمسار کرنے والا ہے بلکہ یہ ریاستی کمزوری اور ناکامی کی ایک المناک مثال بھی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک شادی شدہ جوڑے کو گولیاں مار کر قتل کیا جا رہا ہے، جن کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنی پسند سے شادی کی تھی — ایک ایسا قدم جو قبائلی رسم و رواج کے خلاف تصور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق، یہ جوڑا تقریباً ڈیڑھ سال قبل رشتہ ازدواج میں منسلک ہوا تھا۔ ان کی شادی پسند کی بنیاد پر ہوئی، جسے قبائلی غیرت، سماجی رسم و رواج اور خود ساختہ اقدار کے خلاف قرار دیا گیا۔ اس جوڑے (شرعی نکاح کے مطابق میاں اور بیوی) کو دھوکہ دہی سے "صلح” کے بہانے جرگے میں بلایا گیا۔ وہاں مقامی طور پر منعقد ہونے والے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر شرعی جرگے نے، روایات کی پاسداری کے نام پر، دونوں میاں بیوی کے قتل کا حکم صادر کیا۔
اس حکم پر درجنوں مسلح افراد نے نہتے اور بے گناہ جوڑے کو سرعام موت کے گھاٹ اتار دیا۔
خاتون کے بہادری سے آخری ادا کیے گئے الفاظ، ان "غیرت مند” قاتلوں کے نام نہاد مردانگی اور غیرت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔
اس ظلم پر نہ صرف انسانیت کانپ اٹھی بلکہ ملک بھر میں ایک بار پھر غیرت کے نام پر قتل جیسے واقعات پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔
بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے بیان دیا ہے کہ یہ واقعہ عیدالاضحیٰ سے کچھ روز قبل پیش آیا، تاہم سب سے اہم سوال یہی ہے کہ جب یہ ظلم ہو رہا تھا، تب ریاست، اس کے ادارے، اور قانون نافذ کرنے والے اہلکار کہاں تھے؟ کیا بلوچستان اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں ریاستی قانون کی کوئی حیثیت باقی ہے یا روایتی جرگے اور قبائلی رسوم و رواج آج بھی قانون اور آئین سے بالا تر سمجھے جاتے ہیں؟
یہ واقعہ صرف ایک جوڑے کا قتل نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست کی رٹ پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ آئین و قانون کی تذلیل ہے، اور انسانی حقوق کے اصولوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جس سے قانون شکن عناصر کو کھلی چھوٹ حاصل نظر آتا ہے۔
اس واقعے کو کسی بھی طور اسلامی تعلیمات یا کسی مہذب معاشرے کے اصولوں سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ اسلام میں زبردستی، دھوکہ دہی، اور ظلم و ستم کی کوئی گنجائش نہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں خود ساختہ روایات اور فرسودہ قبائلی رسوم کو شریعت اور آئین سے برتر مانا جاتا ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جس کے نتیجے میں ہر سال درجنوں، بلکہ سینکڑوں جانیں ضائع ہوتی ہیں — اور ان میں سے اکثر واقعات تو میڈیا کی آنکھ سے بھی اوجھل رہتے ہیں۔
حکومت اور ریاستی اداروں کو اب مزید خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے، عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں اور ان مجرموں کو سرعام عدالتوں کے کٹہرے میں لا کر عبرت کا نشان بنایا جانا چاہیے۔ صرف مذمتی بیانات، پریس کانفرنسیں اور ٹوئٹس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ریاست کو خود ساختہ روایات، جرگوں اور قبائلی فیصلوں کے آگے جھکنے کے بجائے انہیں آئینی دائرے میں لانا ہوگا تاکہ عام شہریوں کو انصاف مل سکے اور آئندہ کوئی بھی شخص قانون کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
غیرت کے نام پر ہونے والے اس بہیمانہ قتل نے ہمارے معاشرے کے سب سے تاریک گوشے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
کیا ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں انسان کی جان سے زیادہ رسم و رواج کی پاسداری کو اہمیت دی جاتی ہے؟
اگر اب بھی ریاست نے اپنی رٹ قائم نہ کی، اگر قانون نے اپنی آنکھیں بند رکھیں، تو آنے والے دنوں میں یہ خونریزی ایک معمول بن جائے گی۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت واضح اور دو ٹوک پیغام دے، ریاستی قانون سے بالاتر کوئی نہیں — نہ فرد، نہ قبیلہ، نہ رسم، اور نہ روایت۔
ورنہ آئندہ ہر گھر سے ایک جنازہ اٹھے گا اور ہم صرف تعزیتی بیانات ہی دیتے رہ جائیں گے۔