ڈرونز کی آڑ میں خوارج کا فتنہ ،پاک فوج کی فیصلہ کن کارروائیاں /تحریر: رامین رعنا مروت

ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کی زندگی کو جدید، تیزرفتار اور سہل بنایا ہے وہیں جنگی میدان میں اس کا استعمال ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو دو دھاری تلوار کی مانند ہے۔ ایک طرف یہ سہولت، ترقی اور دفاعی برتری کا ذریعہ ہے، تو دوسری طرف یہ بربادی، دھوکے اور غیر ریاستی عناصر کی قوت کا سبب بھی بن چکی ہے۔ خصوصاً پاکستان جیسے ملک، جو دہشت گردی کے خلاف کئی دہائیوں سے نبرد آزما ہے، وہاں جدید ٹیکنالوجی کا غیر مجاز اور غلط استعمال ایک سنگین خطرے کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
پہلے وقتوں میں جنگیں میدان میں لڑی جاتی تھیں۔ سپاہی آمنے سامنے ہوتے، اور دشمن کا چہرہ بھی صاف نظر آتا تھا۔ مگر وقت نے کروٹ بدلی، اور ٹیکنالوجی نے جنگی میدان کا نقشہ ہی بدل دیا۔ اب دشمن نظر نہیں آتا، بلکہ وہ چھپ کر وار کرتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا، ڈرون، کوڈ کاپٹرز، اور آئی ای ڈیز جیسے جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتا ہے۔ یہی جدید طریقے آج کے سولجرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور وزیرستان کے علاقوں میں "کوڈ کاپٹرز” اور چھوٹے کمرشل ڈرونز کا غلط استعمال ایک بڑا سیکیورٹی مسئلہ بن چکا ہے۔ پہلے یہ ٹیکنالوجی صرف ریاستی اداروں کے پاس ہوتی تھی، مگر اب عام شہریوں تک اس کی رسائی ہو چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا، جس میں خوارج نے کوڈ کاپٹر کے ذریعے بارودی مواد گرایا۔ اس حملے کا نشانہ نہ صرف پاک فوج کے سپاہی بنے، بلکہ کئی عام شہری بھی شہید ہو گئے۔ یہ واقعہ نہایت افسوسناک ہے، کیونکہ اس نے یہ ثابت کر دیا کہ دشمن اب صرف فوجی تنصیبات یا گشتی پارٹیوں کو ہی نشانہ نہیں بنا رہا، بلکہ عام عوام کو بھی اپنی بزدلانہ کارروائیوں کا شکار بنا رہا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے لیے بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی خطرناک ہے، کیونکہ ان آلات کا استعمال اب خفیہ نگرانی، دہشت گردی اور پروپیگنڈا کے لیے ہو رہا ہے۔ کوڈ کاپٹرز کے ذریعے دہشت گرد اپنے ٹھکانے چھپاتے ہیں، بارود پہنچاتے ہیں اور حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی ایک طرف سہولت ہے تو دوسری طرف ایک بڑا خطرہ بھی۔
آئی ای ڈیز، یعنی "امپرووائزڈ ایکسپلوسو ڈیوائسز”، آج کل دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی ہیں۔ یہ سستے، آسانی سے تیار ہونے والے اور چھپانے میں نہایت موزوں ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں، خاص طور پر قبائلی اضلاع میں، ایسے عناصر موجود ہیں جو مقامی طور پر بارودی مواد تیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد پاک فوج کے قافلوں، چوکیوں یا عام راستوں پر حملے کرنا ہوتا ہے۔
ایسے حملوں میں اب تک درجنوں پاک فوج کے جوان شہید ہو چکے ہیں۔ بہت سے جوان زخمی ہو کر دائمی معذوری کا شکار بن چکے ہیں۔ ان حملوں کی بزدلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد چھپ کر، دور سے، یا عوامی بھیس میں حملہ کرتے ہیں، اور عام شہری بھی ان کی کارروائیوں کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔
ان تمام تر چیلنجز کے باوجود، پاک فوج کے بہادر سپاہی نہ صرف ان جدید خطرات کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ دشمن کو اس کے اپنے ہتھیار سے جواب بھی دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے ڈرون ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور انٹیلیجنس نیٹ ورکس کو کامیابی سے استعمال کیا ہے۔ آپریشن ضربِ عضب، ردالفساد، اور حالیہ خفیہ آپریشنز میں پاک فوج نے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔
فوجی جوان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں تربیت یافتہ ہیں، اور انہوں نے دنیا کو دکھایا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر خوارج، دہشت گرد یا دشمن ایجنڈا رکھنے والے کسی بھی فرد یا گروہ کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ لیکن یہ جنگ صرف فوج کی نہیں، پوری قوم کی ہے۔
بدقسمتی سے، کچھ مقامی افراد دانستہ یا نادانستہ طور پر ان دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں۔ وہ انہیں پناہ دیتے ہیں، معلومات فراہم کرتے ہیں یا ان کے آلات کو استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ وزیرستان میں حالیہ ڈرون حملے میں، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خوارج نے مقامی افراد کے ذریعے کوڈ کاپٹر کو علاقے میں داخل کیا، اور انہیں معلوم بھی نہ تھا کہ اس میں بارودی مواد موجود ہے۔
اگر عوام خوارج کی سہولت کاری بند کر دیں، تو نہ صرف ان کی کارروائیاں رک سکتی ہیں بلکہ ان کا وجود بھی جلد ختم کیا جا سکتا ہے۔ ہر شہری کی یہ قومی، مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑا ہو اور دشمن کو پہچانے۔ اسلام بھی ایسے عناصر کی حمایت سے منع کرتا ہے جو فساد فی الارض کرتے ہیں۔ خوارج کا اصل چہرہ یہی ہے: بغاوت، قتل و غارت، اور بے گناہوں کی جان لینا۔
یہ وقت ہے کہ عوام جدید ٹیکنالوجی کے نقصانات کو سمجھیں اور ان کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ کوڈ کاپٹرز یا ڈرونز صرف ماہر ادارے ہی استعمال کریں، عام شہریوں کو ان سے دور رہنا چاہیے، کیونکہ ان کا غلط استعمال نہ صرف ان کی اپنی جان کے لیے خطرہ بن سکتا ہے بلکہ پورے علاقے کی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔
عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن صرف باہر سے نہیں آتا، وہ ہمارے بیچ میں بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی صفوں میں موجود خوارج اور سہولت کاروں کو پہچان کر ان کا قلع قمع کریں، تو پاکستان ایک محفوظ اور پُرامن ملک بن سکتا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی نے جنگ کے اصول بدل دیے ہیں۔ اب جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں، شہروں اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دشمن ٹیکنالوجی کے پردے میں چھپا ہوا ہے، اور وہ سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، خصوصاً پاک فوج، ان خطرات کا نہایت جرأت، حکمت اور قربانی کے جذبے سے مقابلہ کر رہی ہیں۔ مگر ان کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب عوام ان کے ساتھ کھڑے ہوں، سہولت کاروں کو بے نقاب کریں، اور خوارج جیسے عناصر کو اپنے علاقوں سے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔
یہ وقت اتحاد، بیداری، اور ذمہ داری کا ہے۔ دشمن چاہے جتنا بھی ٹیکنالوجی کا سہارا لے، اگر قوم اور افواج متحد ہوں تو کوئی بھی خطرہ پاکستان کے امن کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔