اداریہ: سانحہ سوات —دریا نہیں، حکومتی نا اہلی نے نگلا؟

اشتہارات

خیبرپختونخوا کے سیاحتی ضلع سوات میں حالیہ دل دہلا دینے والے سانحے نے نہ صرف مقامی انتظامیہ کی نااہلی کو بے نقاب کیا بلکہ صوبائی حکومت کے ’گڈ گورننس‘ کے تمام دعووں کو بھی آشکارا کر دیا۔ ایک ہی خاندان کے 16 افراد، جو سیالکوٹ سے سیر و تفریح کی غرض سے آئے تھے، سینکڑوں لوگوں کے سامنے ایک ایک کرکے دریا کی بے رحم موجوں میں ڈوبتے چلے گئے—اورحکومتی ادارے و اربا اختیار تماشائی بنے رہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یہ خاندان صبح سویرے دریا کنارے ناشتے میں مصروف تھا کہ اچانک پانی کی سطح بلند ہوئی اور یہ لوگ بیچ دریا میں پھنس گئے۔ چشم دید گواہوں کے مطابق، امداد کی چیخ و پکار گونجتی رہی، مگر کسی حکومتی ادارے نے فوری حرکت نہیں کی۔ نتیجتاً، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں—اور پیچھے صرف بے بسی، پچھتاوا اور حکومتی نااہلی کی تلخ ثبوت باقی رہ گئی۔

صوبائی حکومت نے حسبِ روایت جونیئر سطح کے چند افسران کو معطل کر کے ’انضباطی اقدامات‘ کا دکھاوا کیا ہے۔ کیا واقعی ایک اسسٹنٹ کمشنر یا ڈسٹرکٹ آفیسر ریسکیو جیسے افسران پورے ریاستی ردعمل کے ذمہ دار تھے؟ کیا ہیلی کاپٹر یا موٹر بوٹس بھی انہی کی ذمہ داری تھی؟ یہ فیصلہ سازی، وسائل کی فراہمی، اور فوری ایکشن کا معاملہ تھا—جو اعلیٰ ترین سطح کی گورننس سے جُڑا ہے۔

حکومت کی کوتاہی صرف ریسکیو میں تاخیر تک محدود نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ دریائے سوات کے کنارے غیرقانونی ہوٹلنگ، کرسیوں کی قطاریں، اور ناشتہ گاہیں کیوں برسوں سے نظروں سے اوجھل رہیں؟ اگر سیاحوں کی حفاظت کو یقینی بنانے والا کوئی میکانزم موجود ہوتا تو شاید یہ واقعہ پیش ہی نہ آتا۔

یہ سانحہ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں، بلکہ حکومتی مشینری کی مکمل اور شرمناک ناکامی کا کڑا ثبوت ہے۔ یہ صرف ضلعی سطح کی غفلت نہیں، بلکہ ایک افسوسناک بدانتظامی ہے اور اس بد انتظامی میں صوبے کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری ریلیف، ڈی جی پی ڈی ایم اے، ڈی جی ریسکیو 1122، کمشنر ملاکنڈ اور ڈپٹی کمشنر سوات شامل ہیں اور یہی اصل ذمہ داران ہیں ۔ اس المیے پر محض چھوٹے افسران کی قربانی کافی نہیں — اصل ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ شفاف، غیر جانبدار اور فوری تحقیقات ہی انصاف کو ممکن بنا سکتی ہیں اور یہی اقدام آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کی بنیاد بنے گا۔

یہ المناک حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 13 برسوں سے مسلسل ایک ہی جماعت برسراقتدار ہے، جس نے خود کو اصول پسندی، قانون کی حکمرانی اور مؤثر طرز حکمرانی کا علمبردار قرار دیا۔ اصلاحات، ادارہ جاتی بہتری اور سروس ڈیلیوری کے دعوے ضرور کیے گئے، لیکن زمینی حقیقت یہی ہے کہ حکومتی ادارے آج بھی عوام کی خدمت کرنے میں ناکام ہیں۔
آخر کب تک حکومتی غفلت، لاپرواہی کی قیمت عوام کو اپنی جانوں سے دینا پڑے گا؟ کب تک بحران کے بعد فوٹو سیشن، بیانات اور جونیئرز کی قربانی سے کام چلایا جاتا رہے گا؟
یہ وقت ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت خود کو آئینے میں دیکھے اور تسلیم کرے کہ گورننس صرف پروٹوکول، اے سی دفاتر اور میڈیا پر بیانات دینے کا نام نہیں—یہ ایک ذمہ داری ہے، جس کا مقصد عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ہونا چاہیے۔

سانحہ سوات کو نظرانداز کرنا آئندہ کئی سانحوں کی راہ ہموار کرے گا۔ اب اگر بھیانک خواب کو دہرایا نہیں جانا تو اصل مجرموں کو کٹہرے میں لانا ہوگا۔ یہی ریاستی وقار، انسانی وقعت اور جمہوری ذمے داری کا تقاضا ہے۔