فتنہ الخوارج کی کواڈ کاپٹر کے ذریعے دہشتگردی اور پروپیگنڈا/تحریر: خوشحال خان

اشتہارات

قبائلی اضلاع، خصوصاً ضلع خیبر، باجوڑ، وزیرستان اور وادئ تیراہ میں حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جس کی وجہ کالعدم تنظیم فتنہ الخوارج کا اہنی دہشتگردانہ کارروائیوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مسلح کواد کاپٹرز کا استعمال ہے ۔ یہ نیا ہتھیار نہ صرف معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہا ہے بلکہ ان حملوں کا الزام ریاست پاکستان اور افواجِ پاکستان پر ڈال کر عوام میں انتشار پھیلانے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

کواڈ کاپٹرز ماضی میں صرف تفریحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے تھے، لیکن اب ان کا استعمال شدت پسند عناصر نے مہلک ہتھیار کے طور پر شروع کر دیا ہے کیونکہ کواڈ کاپٹر نہایت سستے اور ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہیں۔ انٹرنیٹ یا مقامی مارکیٹ میں ہر شخص انہیں بغیر کسی قانونی اجازت کے خرید سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ دہشتگردوں کے لیے ایک آسان اور مؤثر ذریعہ بن چکے ہیں۔ ان پر چھوٹے بم یا دھماکہ خیز مواد نصب کر کے مخصوص اہداف پر گرایا جاتا ہے، اور اس کے بعد سارا الزام سیکیورٹی فورسز پر لگا دیا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے یہ بات نہایت تشویشناک ہے کہ پاکستان میں ان کواڈ کاپٹرز کی کوئی نگرانی یا رجسٹریشن کا نظام موجود نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص آسانی سے ان آلات کو خرید سکتا ہے اور ان کا غلط استعمال کر سکتا ہے۔

فتنہ الخوارج نے قبائلی علاقوں میں ان کواڈ کاپٹرز کو سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف استعمال کیا۔ ان کی جانب سے کی گئی متعدد کارروائیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ یہ تنظیم بھارت اور افغانستان جیسے دشمن ممالک کی مدد سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے پر مامور ہے۔ 19 مئی کو میر علی میں معصوم بچوں کو کواڈ کاپٹر سے نشانہ بنایا گیا، اور فوری طور پر الزام فوج پر لگا دیا گیا تاکہ پی ٹی ایم اور دیگر ریاست مخالف عناصر کو ایک نیا پروپیگنڈا فراہم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ 28 اکتوبر 2024 کو وادی تیراہ کے پیر میلہ بازار میں کواڈ کاپٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس میں دو بچے شہید اور 13 شہری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں پانچ بچے ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کے باوجود پی ٹی ایم جیسے مفاد پرست عناصر نے اس مظالم پر کوئی آواز نہ اٹھائی۔

دہشتگردی کے ان واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک منظم مہم چلائی جاتی ہے۔ کالعدم پی ٹی ایم اور دیگر ریاست مخالف عناصر ان حملوں کا الزام بغیر کسی تحقیق کے پاک فوج اور ریاستی اداروں پر ڈال دیتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف فتنہ الخوارج جیسے گروہوں کو تحفظ دینا اور عوام کو ریاست کے خلاف اکسانا ہوتا ہے۔

یاد رہے ریاستی ڈرون اور کواڈ کاپٹر میں واضح فرق ہے، جسے یہ عناصر جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ ریاستی ڈرون مکمل ریکارڈ کے ساتھ، ایک باقاعدہ نظام کے تحت کام کرتے ہیں، جب کہ کمرشل کواڈ کاپٹرز بغیر کسی نگرانی کے دہشتگردی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

فتنہ الخوارج کے کارندے کھلے عام اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بھارت اور افغانستان سے مالی و تکنیکی مدد لیتے ہیں۔ بھارت آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی عسکری شکست کا بدلہ لینے کے لیے ان دہشتگرد گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ خوارج نے کواڈ کاپٹرز کے ذریعے دہشتگردی کا جو نیا طریقہ متعارف کرایا ہے، وہ اس بات کی علامت ہے کہ دشمن پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ہر ہتھکنڈا استعمال کر رہا ہے۔

یہ وقت ہے کہ حکومت اور عوام دونوں اپنی ذمہ داریاں سمجھیں۔ حکومت کو فوری طور پر کواڈ کاپٹرز کی خرید و فروخت اور استعمال پر ضابطے متعارف کروانے چاہئیں۔ ہر کواڈ کاپٹر کی رجسٹریشن، لائسنس، اور نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ نظام ہونا چاہیئے تاکہ اس ٹیکنالوجی کو غلط ہاتھوں میں جانے سے روکا جا سکے۔

عوام کو بھی فتنہ الخوارج، پی ٹی ایم اور دیگر ریاست مخالف عناصر کے جھوٹے بیانیے کو مسترد کرنا ہو گا۔ قبائلی عوام، خاص طور پر تیراہ، وزیرستان، خیبر اور باجوڑ کے لوگ ہمیشہ سے محب وطن رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس فتنے کا مکمل صفایا کریں۔ کیونکہ فتنہ الخوارج نہ صرف اسلام اور پاکستان بلکہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ان کا انجام انشاء اللہ عبرت ناک ہو گا۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم سب کو سچائی کا ساتھ دینا ہے، اور ریاست کے دشمنوں کو پہچان کر ان کے خلاف متحد ہونا ہے۔

پاکستان زندہ باد