سانحہ بنوں – بڑی تباہی سے بچاؤ، مگر سیاست کی دکانیں پھر بھی گرم/تحریر: نایاب حفیظ

اشتہارات

بنوں کینٹ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ایک نہایت منظم اور خطرناک کارروائی تھی، جس کے پیچھے گھناؤنے عزائم کارفرما تھے۔ حملہ آور کئی دنوں تک لڑنے کی نیت سے آئے تھے اور اس مقصد کے لیے بھاری مقدار میں بارود، اسلحہ، انرجی ڈرنکس، طبی انجکشنز، ادویات اور خوراک بھی ساتھ لائے تھے۔ ان کی تیاری اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ کسی بھی صورت میں زیادہ سے زیادہ تباہی پھیلانا چاہتے تھے۔ تاہم، پاک فوج اور سیکیورٹی اداروں کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی نے ان کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ دہشت گردوں کی مزاحمت کے باوجود ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک و قوم کا دفاع کیا اور یوں پاکستان ایک بڑے المیے سے بچ گیا۔یہ دھماکہ ایک نہایت افسوسناک اور المناک سانحہ تھا، جس میں 15 معصوم شہری جان سے گئے۔ ان میں وہ بے گناہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی روزمرہ زندگی میں مصروف تھے، انہیں یہ اندازہ بھی نہ تھا کہ چند لمحے بعد ان کی دنیا اجڑ جائے گی۔ یہ حملہ اس قدر خوفناک تھا کہ اگر دہشت گردوں کے عزائم کامیاب ہوتے تو نقصان ناقابلِ تصور ہوتا۔ اس قیامت خیز لمحے میں، پاک فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے نہایت بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھا اور مزید تباہی کو روک دیا۔ ان محافظوں کی قربانیوں کی بدولت نہ صرف ہزاروں جانیں بچ گئیں بلکہ دشمن کے مذموم عزائم بھی ناکام ہو گئے۔

مگر افسوس، جہاں یہ سانحہ قوم کے لیے صدمے اور غم کا باعث بنا، وہیں کچھ سیاسی عناصر نے اسے اپنی سیاست چمکانے کا ذریعہ بنا لیا۔ معصوم جانوں کے ضیاع پر سیاست کرنا ایک نہایت افسوسناک اور غیر انسانی رویہ ہے۔ بجائے اس کے کہ حکومت اور اپوزیشن مل کر ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات کریں، بعض عناصر اس موقع پر بھی اپنی سیاسی دکانیں چمکانے میں مصروف رہے۔ ایسے مواقع پر قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد ہونے کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ ہم مستقبل میں اس طرح کے سانحات سے بچ سکیں اور دہشت گردوں کو یہ پیغام دے سکیں کہ پوری قوم ایک ساتھ کھڑی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان پہلے بھی کئی اندوہناک سانحات سے گزر چکا ہے۔ آرمی پبلک اسکول (APS) کا دل دہلا دینے والا واقعہ آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں ایک زخم کی طرح تازہ ہے، جس پر پوری دنیا نے خون کے آنسو روئے تھے۔ کیا ہم چاہتے تھے کہ بنوں میں بھی ویسی ہی قیامت برپا ہو؟ ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ہماری فوج اور سیکیورٹی ادارے ہر وقت اپنی جانوں کی بازی لگا کر ہماری حفاظت کر رہے ہیں۔ یہ وقت اختلافات کا نہیں، بلکہ یکجہتی اور اتحاد کا ہے۔ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا، دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہوگا اور پاکستان کو ایک محفوظ اور مستحکم ملک بنانے کے لیے ایک قوم بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔
مضمون نگار ایک دفاعی تجزیہ کار ہے۔

نوٹ: ادارے کا مضمون نگار/کالم نویس کی رائے کیساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔ کالم/مضمون کے مندرجات مضمون نگار کے خیالات، رائے سمجھے جائیں۔