ترمیم کا تماشا/تحریر: ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اشتہارات

کسی بھی ملک کے آئین میں ترمیم کرنا اُس ملک کے پارلیمنٹ کا حق اور اختیار ہے یہ حق اور یہ اختیار اُس وقت تماشا بن جاتا ہے جب ممبروں کو اغوا کیا جاتا ہے یا ممبروں کے ساتھ سودے بازی کا چرچا کیا جاتا ہے ایسے حالات میں مہینوں تک ڈارامائی صورت حال چلتی رہتی ہے ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں گردش کرتی ہیں جیسی خبریں مچھلی بازار یا مویشی منڈی سے آتی رہتی ہیں وطن عزیز پاکستان کے آئین میں 26ویں ترمیم کی منظوری کے لئے ایساہی ماحول بنایاگیا ترمیم میں کوئی بڑی بات نہیں تھی دینی مدارس کے لئے رجسٹریشن،آڈٹ اور انگریزی تعلیم لازمی ہوگی،معیشت کو سود سے پاک کرنےکاکام 4سال کے لئے روک دیا جائیگااور چیف جسٹس کے تقرر کےلئے جوڈیشیل کمیشن کی سفارش ختم کرکے حزب اقتدارکی مرضی کا دفعہ پارلیمانی کمیٹی کے میٹھے کیپسول میں ڈال کرلایاگیا کسی ستم ظریف نے اس پر کھودا پہاڑنکلا چوہا کا فقرہ بھی چست کیاہے اور اس طرح کی فقرہ بازی ان افواہوں کی وجہ سے ہونے لگی جوافواہیں سیاستدانوں نے جان بوجھ کر ذرائع ابلاغ کو وقتاً فوقتاً جاری کیے تھے اور جن کا سلسلہ اب بھی جاری ہے انگریزی کے ایک ڈرامے کا کردار اپنے زوردار مکالمے کے اندر کہتا ہے”اگر چہ یہ جنو نیت ہے تاہم اس میں ایک سلیقہ موجود ہے“ اور مکالمہ لکھنے والا کوئی اور نہیں ولیم شیکسپیر ہے جنونیت میں سلیقہ آجائے تو اُس کو فرزانگی پر محمول کیا جاتا ہے،کیونکہ سلیقہ اورطریقہ اس کو قابل قبول بناتاہے اس کے مقابلے میں آپ کوئی اچھا کام بھی غلط طریقے سے کریں گے تو وہ محل نظر ہوگا ہر دیکھنے والاانگلی اٹھائیگاکہ یہ کی ہورہا ہے اورکیوں ہورہاہے ہرکام میں قانونی جوازکے علاوہ اخلاقی جوازکا بھی خیال رکھا جاتاہے ایک بارجارج برنارڈ شا سے سوال کیاگیا کہ تاج برطانیہ کے پاس پارلیمنٹ توڑنے کااختیار ہے یانہیں؟ برنارڈ شانے کہابالکل تاج برطانیہ کو اختیاردیاگیاہے سوال کرنے والے نے پھرپوچھااب تک کتنی بارتاج برطانیہ یعنی بادشاہ یاملکہ نے برطانوی پارلیمنٹ کو توڑا ہے؟ برنارڈ شاہ نے کہا ایک بار بھی نہیں، پوچھا گیا آخر کیوں؟ برنارڈ شاہ نے کہا ”اگرچہ قانونی جواز ہے مگر اخلا قی جواز نہیں“گویا اخلا ق آپ کو جواختیار دے وہ قانونی اختیار کے برابر ہوتا ہے اور مہذب قومیں اخلاقی اختیار کو بھی قانونی اختیار کے برابر اہمیت دیتی ہیں اس کی بے شمار مثالیں امریکہ، جاپان،روس اور فرانس کی تاریخ میں بھی ملتی ہیں اسلامی تاریخ میں بھی اخلاقی برتری کی ان گنت مثالیں قائم کی گئیں صلیبی جنگوں میں مخالف جرنیل کاگھوڑا زخمی ہوا تو سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنا گھوڑا ان کو پیش کیا یہ کام قانون کی کسی کتاب میں نہیں تھا البتہ اخلاقی برتری کا سنہرا دستورتھا اوراس کا تعلق شیکسپیر والے سلیقے بھی سے ہے، 26ویں ترمیم کے سلسلے میں جو طریقہ اختیار کیاگیا وہ مہذب دنیا کو اخلاقی لحاظ سے قابل قبول نہیں اس وجہ سے نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، گارجین اور دیگر اخبارات نے اس پر انگلی اٹھائی قانون دانوں کی عالمی مجلس نے بھی سوالات اٹھائے اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے ماہرین نے بھی اس طریقے کو پسند نہیں کیا یہاں تک طریقہ کار اور سلیقے کی باتیں ہوئیں اب ہم آگے بڑھ کر اس کے نتائج اور عواقب پر غور کرتے ہیں تو بھیانک تصویر سامنے آجاتی ہے کل کلاں اگر کوئی مسولینی اور سٹالن جیسا فسطائیت پسند آمر کی حکومت آئی تو یہی قانون وطن کے پرامن شہریوں کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں کے لئے بھی وبال جان بن جائے گا رحمن بابا نے بڑے غور فکر اور مشاہدے کے بعد یہ بات کہی تھی کہ ”دوسرے کے راستے میں کانٹے نہ بچھاؤ ہوسکتا ہے کبھی اس راستے پر تمہارا بھی گذر ہو “ فارسی میں مشہور مقولہ ہے جو دوسرے کے لئے خندق کھودتا ہے خودہی اس میں گر جاتا ہے ”چاہ کن را چاہ درپیش“ وطن عزیز پاکستان میں قانون کی حکمرانی کا خواب اُس وقت شرمندہ تعبیر ہو گا جب حزب اقتدار اورحزب اختلاف دونوں اپنے آپ کو آئین کے تابع کرنے کے بجائے آئین کو اپنی مرضی کے تابع کرنے کے بجائے آئین کو اپنی مرضی کے تابع کرنے سے باز آجائینگے اگر قانون دانوں کی ایک کمیٹی بیٹھ کر آٹھویں تر میم سے لیکر چھبیسویں ترمیم تک تمام ترامیم کا جا ئزہ لے تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آئیگی کہ ملک کے مفاد میں اور قانون کی حکمرانی کے لئے صرف 7ترامیم ہوئی تھیں اس کے بعد ہرایک ترمیم حکمران کی سہولت کو سامنے رکھ کرکی گئی۔