مجھے پھولوں کی زبان آتی ہے/تحریر: محمد جاوید حیات

اشتہارات

عمر عزیز کی کئی سالیں پھولوں کے درمیان گزری ہیں ۔گلشن انسانیت کے پھولوں میں ۔۔۔ان کی خوشبو سے مشام جان معطر رہی ہے ۔ان کے منہ سے نکلے ہوۓ الفاظ کی شرینی میں مست مست رہے ہیں ۔ان کی نالائقی ،کام چوری ،جھوٹ موٹ بہانے ،اپنے آپ کو سزا سے بچانے کی ناکام کوشش ،پھر سزا پاکے استاذ کو کوسنا ۔۔ہاتھ پہ ڈنڈا کی ضرب برداشت کرنا ،کان کھینچنے سے "اف” کی آواز ، پھر آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو یہ سب مناظر آنکھوں کے سامنے پھرتےہیں ۔پھر اپنے سامنے ان پھولوں کو تناور درخت بنتے دیکھ کر شادمان ہونا ۔ان درختوں کو پھل دینے پہ” اپنا” کہنا ۔۔پھر سینچائی کی یادیں پھر وہی نرسریاں ۔۔ہر سال نئے پود ے۔۔یہ لو چھٹی کلاس۔۔۔ نیا داخلہ ۔۔یہ لو نویں کلاس۔۔۔۔۔ نیا داخلہ ۔۔گلشن انسانیت کے نئے پودے ۔۔۔تراش خراش کے محتاج ۔۔۔کلاس میں جاو تو خوبصورت آنکھوں میں خواب سجاۓ ہوۓ تمہارے منہ تک رہے ہوں ۔ہر ایک کا مستقبل ان کی پیشانی پہ لکھا ہوا ۔۔۔۔آرزووں کے بھنور ۔۔کپڑے اجلے ۔۔۔۔ جوتے چمکدار ۔۔۔داندان کرن زار ۔۔چہرہ پھول ۔۔سہمے سہمے ۔۔شگفتہ دھن ۔۔۔کچھ غلط جواب دیں تب بھی سخن شیرین ۔۔اخلاص کی ایک خوشبو ارد گرد پھیلی ہوئی ۔۔۔دامن میں موتیاں سمیٹنے کے منتظر ۔۔شگوفے ۔۔میں ان کے درمیاں ایک جنرل نما ۔۔ایک کردار ۔۔۔سچ کی علامت ۔۔۔علم کا یم ۔۔کردار کی دھنی ۔۔گفتار کا شاہنشاہ ۔۔خطابت کا شہزادہ ۔۔ماڈل ۔۔۔میرے لباس پوشاک مثالی ، میرا بدن نستعلیق۔۔میرا نام استاذ (Sir) ۔۔۔یہ سر بڑا خوش قسمت ہے ۔۔اس کو پھولوں کی زبان آتی ہے ۔۔اس کے غصے میں پیار ہے ۔اس کے لہجے میں مٹھاس ہے ۔اس کی آنکھوں میں جادو ہے ۔وہ دور تک مستقبل دیکھتا ہے ۔یہ "سر "اگر پھولوں کی زبان پر توجہ نہ دے تو بڑا ظالم ہے ۔۔اس کے لیے کلاس روم ایک سمندر ہے اور یہ ماہی ۔۔۔مچھلی سمندر سے باہر آۓ تومر جاۓ ۔اگر نہ مرے تو وہ نہ "سر” ہے نہ اس کو پھولوں کی زبان آتی ہے۔۔۔ نہ وہ گلشن انسانیت کا باغبان ہے ۔۔۔۔نہ ان کو ان پھولوں کی خوشبو محسوس ہوگی ۔نہ وہ ان نظاروں سے لطف اندوز ہوگا۔۔ان پھولوں کی صحبت میں زندگی کتنی مختصر ہے۔۔۔ عمر کے گزرنے کاپتہ بھی نہیں چلتا۔۔۔ دن کب رات میں بدلتے ہیں۔۔۔۔بہار خزان کااحساس نہیں ہوتا کیونکہ ان کی زندگی سراپا بہار ہے ۔۔اگر ایسا ہے تب مزہ کہ وہ ان کے سینوں کو صداقت سے بھر دے۔۔۔ ۔ان کی آنکھوں کو صفت شاہینی سے آشنا کر دے۔۔۔۔ ۔ان کے کردار میں غیرت کا رنگ بھر دے۔۔۔ ۔ان کو زندگی سے لڑنا سیکھاۓ ۔۔ان کو بتاۓ کہ اصل خوبصورتی کردار ہے ۔۔ان کو سمجاۓ کہ اصل کامیابی خوشی اور اطمنان ہے ۔۔۔۔ان کو یہ گر سیکھاۓ کہ ان کے اندر ” ضمیر ” نام کا ایک اور” انسان” موجود ہے اس کو مردہ ہونے نہ دے جب وہ زندہ ہے تب یہ ان کے زندہ رہنےکا ثبوت ہے۔۔ان کو بتاۓ کہ تکبر اور جھوٹ انسان کی رسوائی ہیں ۔ان کو "بڑا آدمی ” کا تعارف کراۓ کہ وہ کون ہوتا ہے ۔۔یہ سارے پھول ان سب باریکیوں سے ناشناہیں تقاضا کرتے ہیں کہ ان کو سیکھایا جاۓ ۔۔ان کی زبان سمجھی جاۓ ان کو ہیرابنایا جاۓ ۔۔۔تب کہیں کوئی باغبان (معلم) دعوی کر سکتا ہے کہ ” مجھے پھولوں کی زبان آتی ہے "۔