147

نغموں پہ گزارا کریں گے/تحریر: محمد جاوید حیات

23مارچ اپنی سنہری یادیں لے کر پھر آگئی۔یہ یادیں ایک قوم سے وابستہ ہیں۔۔ایک غلام قوم جو آج کے دن اپنی آزادی کی منزل طے کر دی تھی۔ایک تاریخی قرارداد منظور ہوئی تھی۔دوسرے الفاظ کیا تھے کیا نہیں تھے تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔ البتہ ایک فقرہ ایک پرخلوص عزم و ہمت سے پر فقرہ صاف اور واضح تھا۔۔۔ کہ”ایک آزاد اسلامی، فلاحی ریاست“73 سال بعد بھی اس فقرے کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ اس قوم کی پیشانی پر سوالیہ نشان ہیں۔”آزاد“۔۔۔”اسلامی“۔۔۔”فلاحی“۔۔یہ بہت ہی مشکل termsہیں ایک ایک لفظ منزل ہے ایک ایک لفظ ایک معرکہ ایک خوفناک جدو جہد ہے تب جاکے اس لفظ کے معنی حقیقت بن جاتا ہے۔کسی ملک کی آزادی کوئی معمولی کام نہیں کسی ملک میں مذہب پر مکمل عمل کرنا اور طرز زندگی اس کے مطابق ڈاھلنا مذاق نہیں ہے کسی ملک کو فلاحی ریاست بنانا بھی بہت مشکل کام ہے۔۔ہم نے زمین کا ٹکڑا حاصل کر لیا مگر آگے کی یہ منزلیں کماحقہ حاصل نہ کر سکے۔۔اس وقت ہمارے بزرگوں نے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ہماری نسلیں اس ملک کو قرضوں پہ چلاینگے۔۔یہ کبھی نہیں سوچا ہوگا۔۔کہ اس ملک میں کرپشن ہوگا۔۔اس میں زاتی مفاد کو قومی مفاد پہ ترجیح دی جاے گی۔۔غریب نوالے کو ترسینگے امیر امیر تر ہونگے۔اقرباء پروری رشوت دھوکہ دیہی انتہا کو پہنچے گی۔اس کی عدالتوں میں انصاف نہیں ہوگا۔اس کی تعمیر میں غبن اور بد دیانتی ہوگی۔اس ملک میں اہلکار کام چور ہونگے۔۔یہ خدشہ اگر ظاہر کرتے تو اس کے حصول کی جد و جہد ہی نہ ہوتی۔۔انھوں نے ایک خواب دیکھا تھا۔ایک بے مثال فلاحی اسلامی ریاست کا خواب۔۔لیکن لٹیرے کہاں سے آگئے۔چاہیے تھا کہ اگر سپاہی اس کے لیے جان دیتا ہے تو معلم اس قوم کے نو نہالوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے۔اگر کوئی غریب مزدور خون پسینہ ایک کر رہا ہے تو انجینئر اپنی نیندیں حرام کرتے۔اگر کاروباری دن رات ایک کر رہا ہے تو سیاستدان اس قوم کے پیسے پیسے کو اپنی امانت سمجھتے۔۔ایسا نہیں ہوتا۔ہم کشمکش اور تذبذب میں مبتلا ہیں ہم ان اصطلاحات کے معنی نہ سمجھ سکے۔ہم پس رہے ہیں لٹ رہے ہیں۔ہم حیران و پرشان ہیں۔۔ہم اس سر زمین سے پیار کرتے ہیں عقیدت رکھتے ہیں اس کے نغمے گاتے ہیں۔۔ بس نغمے گاتے ہیں۔۔۔۔اے وطن ہم ہیں تیری شمع کے پروانوں میں۔۔۔زندگی ہوش میں ہے جوش ہے ایمانوں میں۔۔۔وطن کی مٹی گواہ رہنا۔۔۔۔یہ پیارا پرچم ہمارا پرچم۔۔۔۔پھول میری زمین چاند میرا وطن۔۔۔تو سلامت رہے اے نگار وطن تو سلامت رہے۔۔۔پاک سر زمین شاد باد۔۔۔۔اس پرچم کے سایے تلے ہم ایک ہیں۔۔۔اے قاید اعظم تیرا احسان۔۔۔میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے۔۔۔ہم مصطفوی مصطفوی مصطفوی ہیں۔۔۔۔میر کارواں ہم تھے روح کارواں تم ہو۔۔ہم تو صرف عنوان تھے اصل داستان تم ہو۔۔یہ نغمے ہم گاتے ہیں۔سکولوں میں۔۔کالجوں میں۔۔جلسوں جلوسوں میں۔۔تقریبات میں قومی دنوں میں۔۔ان کو سننے والے بیٹھے ہوتے ہیں کبھی سر دھنتے بھی ہیں۔لیکن اسی لمحے ان کے ساز و آہنگ ترنم و الفاظ سب کچھ بھول جاتے ہیں۔۔جب عملی میدان میں جاتے ہیں تو گویا کچھ سنا ہی نہیں۔۔زندہ قومیں صرف نغمے ہی نہیں گاتے ان کے عملی نمونے ہوتے ہیں۔ان نغموں کے معانی کے عملی ثبوت ہوتے ہیں۔۔بس ہم نغمے لکھتے ہیں نغمے گاتے ہیں نغمے بھول جاتے ہیں۔۔23 مارچ کی تاریخ پھر آگئی۔سریلے نغمے پھر گونجیں گے۔۔ہمارے بڑے سنیگیں۔۔۔لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ ہم اس سر زمین پاک کے قابل نہیں ہیں۔ کوئی دوسری زندہ قوم ادھر ہوتی تو آج یہ دنیا کو lead کرتی۔۔دنیا اس کی مثالیں دیا کرتی۔۔اگر حکمران کوئی اچھا نہیں کر رہے تو رعایا کہاں کمال کررہی ہے۔۔کون ہے جو اپنی فرض منصبی صداقت سے انجام دے ریی ہے۔..چلو نغموں پہ گزارا کریں گے۔۔۔اس ملک کا خدا ہی محافظ ہو۔۔۔۔پاکستان زندہ باد