166

سکولوں میں ہوم ورک/تحریر:محمد جاوید حیات

کووڈنے جہاں سارا نظام زندگی متاثر کیا وہاں تعلیمی نظام اور تعلیم و تعلم کی سرگرمیوں کو تباہ و برباد کیا۔سکول کی عمارت تعلیم و تعلم کا مرکز ہوتا ہے۔ سکول آتا بچہ ہمہ وقت تعلیم و تعلم کے عمل میں ہوتا ہے۔۔وہ شام کو اپنا ہوم ورک مکمل کرکے جب اپنی کتابیں درست کرکے بستے میں رکھتا ہے تو وہ ذہنی طور پر مطمئن ہوتا ہے اس کو لگتا ہے کہ اس نے ایک معرکہ سر کر لیا ہے اس کو حوصلہ ملتا ہے۔۔پھر وہ صبح تیار ہو کر سکول کی طرف روانہ ہوتا ہے۔ سکول کی عمارت میں ہر سرگرمی اس کے لیے تعلم ہے خواہ وہ شرارت و کھیل ہی کیوں نہ ہو۔۔۔بچے کے ذہن میں یہ بات راسخ ہوتی ہے کہ یہ سکول ہے۔ سیکھنے کی جگہ۔۔”سکولنگ”اسی تربیت ہی کو تو کہتے ہیں۔۔کووڈ کے اس دورانیے میں ہم اساتذہ کو جن باتوں کا تجربہ ہوا وہ مثبت تجربہ نہیں تھا۔۔پہلا یہ کہ جو بچے گھروں میں اس ماحول میں ہوتے ہیں کہ والدیں اور بزرگ ان کو تعلیم کی اہمیت کا درس دیتے ہیں ان کی نگرانی کرتے ہیں۔۔ان پر نظر رکھتے ہیں وہ بچے پڑھتے ہیں کام کرتے ہیں۔لیکن وہ دس فیصد ہیں ان کے علاوہ بچے برباد ہو گئے ہیں۔۔وہ ٹیلی سکول وہ آن لائن کلاسیں وہ اساتذہ کی کاوشیں اکارت ہیں۔۔کووڈ سے واپسی کے بعد ہم نے ڈائگناسٹک ٹسٹ لیا تو اس بات کا بر ملا ثبوت مل گیا کہ وہ بچے اپنے گھروں میں بالکل پڑھائی سے دور تھے اور وہ بچے اپنے گھروں میں کم از کم کام کر رہے تھے، یہ بات ثابت ہے کہ تعلیم و تعلم کا عمل ایک ٹرائیکاہے اس میں والدین کا کردار اساتذہ سے زیادہ ہے کیونکہ آج کا دور بہت ہی تیزدورہے معاشرہ ہر طرف بگڑا ہوا ہے بچے اپنے گھر میں بھی میڈیاکے طوفان میں عرق ہیں۔۔ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے،ایک یلغار ہے اس لیے آج کے والدین پر بہت ہی مشکل فرض عاید ہوتا ہے۔استاد ویسے بھی تنقید کا نشانہ رہا ہے یہ استاد کے لیے اعزاز ہے کہ اس پر تنقید کی جائے،اس کے کام کو گیچ کیا جائے مگر والدین کی نظر بچوں پہ پل پل ہونی چاہیے وہ فرض بھول جاتے ہیں۔۔اس بے ہنگم ہجوم میں ان کو اپنے بچوں کی تربیت کا درد نہیں تڑپاتا،ملک میں کووڈ کی دوسری لہر آئی ہے، حکومت کا احسن اقدام میں سے یہ ہے کہ اساتذہ سکولوں میں بیٹھ کر بچوں کو کامassign کریں وہ ہفتے میں لے کے آئیں، اساتذہ چیک کریں،اس کا ہمیں بہت اچھا تجربہ رہا،وہ بچے جو والدین کی نگرانی میں ہوں assignشدہ کام ایسے سلیقے طریقے اور اہتمام سے کرکے لاتے ہیں کہ بہت اچھا لگتا ہے لیکن جو طلباء یہاں پہ کام چوری کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ گھروں میں ان پر توجہ نہیں دیا جاتا،یہ جو مرحلہ درپیش ہے اس میں والدین کی خاص توجہ کو بچوں کی ضرورت ہے،یہ استاتذہ کی اپیل ہے گزارش ہے،یہ بچے قوم کی امانت ہیں یہی قوم کی اساس ہیں۔اگر ہم سب مل کر ان کی تربیت کی جد و جہد نہ کریں تو ایک ہاتھ سے تالی نہیں بجتی،یقینا سکول کا ماحول بچوں کو گھر میں مہیا نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کی مناسب نگرانی کی جا سکتی ہے، بچے سب اچھے سب ہماری آنکھوں کے تارے ہیں لیکن وہ بچے ہی نہیں رہیں گے کل کو وہ ذمہ دار ہونگے۔تعلیم و تربیت میں اگر دراڑ آجائے تو پھر وہ کس کو روئیں۔۔۔اپنی شومی قسمت کو یا ہماری غفلت کو۔۔