131

ہمارے تعلیمی ادارے اور پھیلتی وباء/تحریر:محمد جاوید حیات

پوری دنیا میں پھیلتی وباء کی تباہ کاریاں ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں تاریخ میں کئی بار عالم انسانیت پر ایسی تباہی آتی رہی ہے اور عالم انسانیت کوجھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے۔اس سمے انسانیت اس آفت سے حد المقدور مقابلہ کر سکی یا شکست کھا گئی یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔آج کی اس سائنسی ترقی کے دور میں جہاں ٹیکنالوجی کو قوموں کی بقا گردانا جاتا تھا اور ترقی یافتہ اقوام سائنسی میدان میں اپنی کامیابیوں کو اپنی بقا کی سند سمجھ رہے تھے یہ وباء کہاں سے آگئی کہ انکا نام نہاد غرور خاک میں مل گیا بظاہر بے حیثیت سی وائرس سائنس اور ٹیکنالوجی کے ان چیمپئنر کو بھی ہلاکے رکھ دیا۔اپنی ترقی کے گھمنڈ میں پتھر کے زمانے میں پہنچانے کی دھمکی دینے والے خود بے بس ہیں۔اور طوعاًو کرھا ً اس خالق حقیقی کو پکارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔موت ویسے بھی ہر ذی روح کے سر پہ منڈلاتی رہتی ہے مگر اس سے سب غافل رہتے ہیں اب کی بار اپنی آنکھوں کے سامنے موت کو دیکھ کر لرزہ بر اندام ہو گئے ہیں۔موت سے بچنے کی اچھی خاصی تدابیر ہورہی ہیں لیکن وباء سے ہر شعبہ زندگی میں تباہی ایک تلخ حقیقت ہے۔ہر ایک اپنا رونا رو رہا ہے۔تاجر تجارت کا رو رہا ہے۔کارخانہ دار کے کار خانے کھڑے ہیں۔دکاندار ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا ہے۔سر کاری ملازم پاؤں پھیلائے بیٹھا ہے مفت میں تنخواہ مل رہی ہے۔محکمے ویران ہیں۔اطباء اور مسیحا اپنی جان پر کھیل رہے ہیں۔محافظیں حیران و پریشان ہیں۔بے سکونی اور افراتفری ہے۔عبادت گاہیں ویران ہیں۔خوشیاں رخصت ہو گئی ہیں۔سیرو تفریح پہ پابندی ہے،ہوٹلوں،موٹلوں اور ریسٹ ہاؤس میں ہو کا عالم ہے۔یہ سب حقیقتیں اپنی جگہ لیکن اگر دل سوزی سے سوچا جائے تو سب سے بڑا نقصان قوم کا قوم کے نونہالوں کی تعلیم تربیت میں ہو رہا ہے۔۔قوم کا مستقبل تباہ ہورہا ہے۔بچوں کی تعلیم وتربیت مفقود ہے۔ان کی آنے والی زندگی داؤ پہ لگی ہے۔ان کی صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔پیسہ پھر بھی کمایا جا سکتاہے لیکن تعلیم و تربیت کی ایک عمر ہو تی ہے وہ اگر ضائع ہوجائے تو اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔حکومت کو غریب مزدور کی فکر ہے یہ ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے یہ احسن اقدام ہے لیکن سکولوں کی بندش کو بہت ہلکا لیا جارہا ہے۔اس کو موت و حیات کا مسئلہ ہی نہیں سمجھا جا رہا۔ان کے لئے متبادل بندوبست کا سوچا ہی نہیں جارہا۔ اساتذہ کو اضافی ذمہ داری کے ساتھ سکول کو کھولنے پہ سوچا ہی نہیں جارہا۔اب تک جو کوششیں کی گئی ہیں وہ سود مند نہیں ہیں۔آن لائن کلاس شہروں میں شائد ذمہ دار بچوں اور والدین کیلئے اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو لیکن دیہی علاقوں میں وہ سہولیات ہی نہیں ہیں۔ٹیلی سکول شہروں میں ممکن ہو لیکن دیہی علاقوں میں ممکن ہی نہیں۔شہری علاقوں میں بھی ان گھروں میں جن میں فارغ اور تعلیم یافتہ والدیں ہوں جو بچوں کو ٹی وی کے سامنے بیٹھا کر ان کی نگرانی کریں ورنہ تو یہ ناممکن ہے۔آج کل شہری علاقوں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا موسم ہے اگر اللہ کی مہربانی سے یہ وباء اٹھ جائے تو سردیوں میں بھی پڑھائی ہو سکتی ہے مگر دیہی علاقوں میں سردیوں میں سکول کھولنا ممکن ہی نہیں ہے۔اس کے علاوہ ملک میں غیر سرکاری تعلیم ادارے بند ہیں اس کی وجہ سے سکول مالکان مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں وہ نہ عمارت کا کرایہ ادا کرسکتے ہیں نہ اساتذہ کو تنخواہ دے سکتے ہیں۔کئی سکول بند ہونے کا خدشہ ہے والدین ایک طرف رو رہے ہیں کہ مفت میں فیس بھرتے ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے۔کتنے پرائیویٹ اساتذہ بے روزگار ہو چکے ہیں۔۔اس ضمن میں حکومت کی مجبوری اپنی جگہ لیکن اس کا متبادل انتظام کرنے میں سنجیدہ کوشش ہی نہیں ہوئی۔۔اساتذہ کے لئے ایک شیڈول بنایا جائے۔امتحانات کا متبادل انتظام کیا جائے۔جب سکولوں کی بندش ہوئی تھی اس وقت ایس ایس سی کے امتحانات شروع ہو ئے تھے۔یکدم بندش کا حکمنامہ جاری کرنے سے پہلے سوچا جاتا اور ایس او پیز کے تحت ان کا امتحان لیا جاتا،ایسا نہیں کیا گیا۔ اب سکولوں کو یکم ستمبر کو کھولنے کے حکمنامے نے تو ہر کہیں مایوسی اور ہلچل مچا دی ہے کہ ہمارے بچے بالکل ان پڑھ ہو جائینگے،پورا سال گزر جائے گا۔اس پر پھر سے سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔پہلی بات یہ ہے کہ سرمائی علاقوں کے لئے یہ بندش نہ ہو وہ سردیوں میں ادارے نہی ں کھول سکتے۔برف اور بدن جام سردی میں بچوں کے لئے سکول آنا ممکن نہیں ہوسکتا۔سکولوں میں سٹرانگ ایس او پیز نافذ کی جائیں،اساتذہ شفٹ میں بچوں کو پڑھائیں گے۔ایک دن ہائی کلاسس کی پڑھائی ہوگی دوسرے دن مڈل کی اوران کو کم تعداد میں مختلف کلاس رومز میں بیٹھا کے پڑھائی کا انتظام کرئیں گے۔بچوں اور اساتذہ کے لئے ماسک وغیرہ لازمی ہوگا۔سکولوں اور کلاس رومرز میں بچوں کوہاتھ دھونے وغیرہ کی تاکید کرائی جائے گی۔یہ بچے قوم کے بہترین سفیر ہیں گھروں، گلی کوچوں،محلوں میں جاکر ایس او پیز کی مشق کرینگے ان کی دیکھا دیکھی ان کے گھر والے گاؤں کے بزرگ اور سب ان کی نقل اتاریں گے۔اگر چھوٹے بچوں میں ڈسپلن آجائے گی تو بڑے خود اس پر عمل کریں گے۔۔بچوں کو کلاس روم میں بہتر آگاہی دی جائے گی جس کے بہت مثبت نتائج ہونگے۔گھروں اورمعاشرے میں وباء کا جوخوف پھیلا ہوا ہے وہ ختم ہوجائے گا،والدین کی تشویش ختم ہوگی۔محنتی بچوں کی محنت کا تسلسل اور حوصلہ بڑھے گا ان کی مایوسی ختم ہوجائے گی۔پرائیویٹ اداروں کی بندش کا خطرہ ٹل جائے گا اس لئے اساتذہ کی یہ پکار ہے کہ تعلیم ادارے کھولے جائیں اور اللہ کا نام لے کر بچوں کی تعلیم و تربیت کا آغاز کیا جائے۔