مسلم لیگ (ن) چترال کا یوم تشکر و یوم نجات، پی ٹی آئی حکومت کے احتساب کا مطالبہ

13 سالہ اقتدار میں صوبے میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا گیا، ذمہ داروں کو کڑی سزا دینی چاہیئے، مقررین

اشتہارات

چترال (بشیرحسین آزاد) پاکستان مسلم لیگ (ن) چترال نے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ اور پی ٹی آئی کی 13 سالہ صوبائی حکومت کے خاتمے کے تناظر میں بدھ کے روز چترال پریس کلب میں یوم تشکر اور یوم نجات منایا۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبے میں مبینہ لوٹ مار اور کرپشن کا احتساب چترال سے شروع کیا جائے اور تمام ترقیاتی منصوبوں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

پریس کانفرنس اور اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) لوئر چترال کے صدر ایڈووکیٹ عبدالولی خان، اپر چترال کے صدر اور سابق رکن صوبائی اسمبلی سید احمد خان، ایڈووکیٹ محمد کوثر، چارویلو نور احمد خان، امتیاز خواجہ، خیرالدین شادان، مظفرالدین، نعیم انجم اور عمران الملک نے کہا کہ صوبے کے عوام نے گزشتہ 13 سال کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی مبینہ کرپشن اور ناقص طرز حکمرانی کے باعث مشکلات کا سامنا کیا، لہٰذا اب ضروری ہے کہ سابق حکمرانوں سمیت تمام ذمہ داران کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔

مقررین نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ انہوں نے چیو پل کی مثال دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہاں محض تین لوڈ مٹی ڈالنے کے عوض قومی خزانے سے 30 لاکھ روپے وصول کیے گئے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ گھوسٹ منصوبوں کے ذریعے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد کی گئی اور سرکاری محکموں میں ملازمتیں فروخت کی گئیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے چترال میں جاری تمام سڑکوں کے منصوبوں کی تکمیل میں تیزی لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی پسماندگی دور کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر عملی پیش رفت ناگزیر ہے۔

مقررین نے پاک فوج کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے وزیراعظم شہباز شریف کی سویلین حکومت کے ساتھ مل کر ملک کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر درپیش بحرانوں سے نکالنے میں کردار ادا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں موجودہ صورتِ حال کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی قیادت پر عائد ہوتی ہے، جس کی پالیسیوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔

اجتماع میں منظور کی گئی ایک قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ رکن قومی اسمبلی غزالہ انجم کو ان کی کارکردگی کی بنیاد پر نئے صوبائی سیٹ اپ کی صوبائی کونسل میں شامل کیا جائے تاکہ انہیں چترال کی پسماندگی دور کرنے اور علاقے کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع مل سکے۔