سعودی عرب کے دفاع کے لئے پاکستان کے تمام وسائل دستیاب ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاکستان کے وزیرِ دفاع نے منگل کے روز کہا ہے کہ مملکت سعودیہ میں مقدس مقامات کے تحفظ میں مدد کے لیے پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کے اختیار میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی کے لیے اسلام آباد کے عزم کا اعادہ کیا۔
حوثیوں کے سعودی مملکت پر حالیہ حملوں نے امریکہ-ایران تنازعے کے وسیع تر علاقائی اثرات کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں۔
نجی نشریاتی ادارے وی نیوز پر منگل کو شائع کردہ تبصروں میں وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے تمام وسائل سعودی عرب کے لیے دستیاب ہیں۔ یہ ہمارا برادر ملک ہے اور ہمارے مقدس مقامات وہاں واقع ہیں۔ میرا یقین ہے کہ ان کا تحفظ کرنا اور اپنے تمام وسائل انہیں فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ وسائل فی الحال فراہم کیے جا رہے ہیں اور مستقبل میں ہر مرحلے پر ہم دشمنوں کے خلاف سعودی سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے سعودی بھائیوں کے شانہ بشانہ ہوں گے۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد نے بتایا کہ اس کی افواج نے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضا ہی میں ناکارہ بنا دیا۔ خواجہ آصف کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا ہے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنی کابینہ کے ایک ٹیلی ویژن پر نشر کردہ اجلاس کے دوران مملکت کے دفاع کا عزم ظاہر کیا تھا۔
قبل ازیں پاکستانی فوج کے ترجمان نے حالیہ طے کردہ مکہ سہ فریقی دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی کی تصدیق کی تھی۔
پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا، "میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ افواجِ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں موجود ہیں۔”
کیا مکہ دفاعی معاہدے کے تحت مملکت میں پاکستانی فوجی اہلکار تعینات ہیں، اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: "جی ہاں، پاکستانی فوجی کئی عشروں سے وہاں مختلف حیثیتوں میں موجود ہیں۔ وہ کئی عشروں سے سعودی عرب میں تعینات ہیں۔”