سوشل میڈیا کیلئے قواعدو ضوابط سخت کرنے پر غور،اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز

اشتہارات

,

اسلام آباد (م،ڈ) بچوں کے استحصال اور فحاشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے وزارت داخلہ نے سوشل میڈیا کے قوانین کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک خصوصی اجلاس کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال کے لیے عمر کی حد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جبکہ فیملی ویورشپ اور فیملی ویلنگ کے نام پر پھیلنے والی فحاشی کو کنٹرول کرنے کے لیے بھی موثر تجاویز شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بعض سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی عائد کرنے کے آپشنز پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔

وزارت داخلہ میں ہونے والے اس اہم اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)، اور وفاقی و صوبائی پولیس کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے، جہاں بچوں کے استحصال اور فحاشی کے کیسز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا اور آسٹریلیا سمیت مختلف ممالک کی سخت سوشل میڈیا پالیسیوں کا بھی مطالعہ کیا جائے گا۔

موجودہ ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ کے دور میں آن لائن سکیورٹی، بچوں کے تحفظ اور سائبر قوانین سے جڑی ایسی اہم حکومتی پالیسیوں اور اجلاسوں کی خبریں فوری طور پر سامنے آ جاتی ہیں جن سے ڈیجیٹل میڈیا کے ضابطہ کار میں آنے والی تبدیلیوں کا احوال عوام تک پہنچتا رہتا ہے۔