افغان طالبان حکومت نے میڈیا پراپیگنڈا کے لیے بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو میدان میں اتار دیا

بڑی تعداد میں ہندوستانی یوٹیوبرز کی افغانستان آمد، غیر مصدقہ اور بے بنیاد کنٹینٹ کی تیاری میں مصروف

اشتہارات

چترال (چ، پ) افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنے منفی اور بے بنیاد بیانیے کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقویت دینے کے لیے بھارتی سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور یوٹیوبرز کی خدمات حاصل کرنا شروع کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق طالبان حکومت نے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کے تناظر میں بھارتی صحافیوں کے بعد اب یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی اپنے میڈیا بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ مہینوں پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے "آپریشن ’’غضب لِلحق” سے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے، واقعات کا یکطرفہ تاثر دینے اور پاکستان کے خلاف بے بنیاد بیانیہ تشکیل دینے کی مہم میں بھارتی ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق متعدد بھارتی انفلوئنسرز کو خصوصی طور پر افغانستان کے ویزے جاری کیے گئے اور حکومتی سرپرستی میں انہیں پاک افغان سرحد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرایا جا رہا ہے۔

اس دوران انہیں سرکاری یا طالبان حکام کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر ویڈیوز اور دیگر ڈیجیٹل مواد تیار کرنے کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں، جنہیں بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر طالبان حکومت کے حق میں استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس مہم کا ایک مقصد افغان عوام تک حقائق کی متوازن تصویر پہنچنے سے روکنا اور طالبان حکومت کو ایک مضبوط، بااثر اور ناقابلِ شکست عسکری قوت کے طور پر پیش کرنا ہے۔

بھارتی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی وسیع رسائی کو استعمال کرتے ہوئے طالبان حکومت اپنے حق میں ایک ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں زمینی حقائق اور حالیہ واقعات کے متنازع پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے۔

اسی سلسلے میں بھارتی یوٹیوبرز "بشنوئی "اور” ہرش” کو خصوصی انتظامات کے تحت پاک افغان سرحد کے مختلف علاقوں کا دورہ کرایا گیا۔

ان میں سے بھارتی یوٹیوبر” بشنوئی” نے چترال کے سرحدی قصبے ارندو کے سامنے واقع افغان علاقے ڈوکلام کا بھی دورہ کیا اور وہاں سے تیار کردہ اپنے وی لاگ میں طالبان کی خود ساختہ عسکری صلاحیت اور مبینہ بہادری کو نمایاں کرنے کی غرض سے بے بنیاد دعوؤں پر مبنی کنٹینٹ تیار کرکے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کردیا۔

اس حوالے سے افغان امور پر نظر رکھنے والے صحافی و تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مذکورہ وی لاگ میں سرحدی صورتحال اور ماضی کے واقعات کے کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر طالبان فورسز کو اتنا ہی مضبوط اور ناقابلِ شکست دکھایا جا رہا ہے تو ماضی کے ان واقعات کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا جن میں انہیں مقامی سطح پر شدید مشکلات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

اسی طرح طالبان حکومت کی جانب سے بھارتی یوٹیوبرز کو فراہم کی جانے والی معلومات میں صوبہ نورستان کے مشرقی اضلاع میں پیدا ہونے والی صورتحال جیسے اہم معاملات کو بھی جان بوجھ کر مخفی رکھا گیا کیونکہ 47 روز تک لڑی جانی والی جنگ میں افغان صوبے نورستان کے اضلاع برگمٹال اور کامدیش عملاً افغانستان سے کٹ چکے تھے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے زمینی حقائق کو نظر انداز کرکے صرف ایک مخصوص بیانیہ پیش کرنا اس چیز کو واضح کرتی ہے کہ "بھارتی ” یو ٹیوبرز کو مخصوص مقاصد کے لئے میدان میں اتارا گیا ہے۔

سیاسی و میڈیا حلقوں کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے بھارتی یوٹیوبرز اور انفلوئنسرز کو غیر معمولی سہولیات اور پروٹوکول فراہم کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ کابل اپنے سیاسی اور میڈیا بیانیے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھارت کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی انحصار بڑھا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے خلاف افغان سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس اور دیگر ذرائع سے چلائی جانے والی مہم کو مطلوبہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد بھارتی ڈیجیٹل میڈیا کو اس مہم میں زیادہ نمایاں کردار دیا جا رہا ہے۔

تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے کسی مخصوص بیانیے کو بار بار اجاگر کرنے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے، اور ایسے دعووں کی جانچ آزاد اور غیر جانب دار ذرائع سے ضروری ہے۔

ان بھارتی یوٹیوبرز کے افغانستان میں موجود "پاکستانی طالبان” کے ساتھ رابطے ، انکے ساتھ گفتگو اور فلمبندی نے مزید واضح کیا ہے کہ افغانستان کے اندر نہ صرف پاکستانی طالبان موجود ہیں بلکہ افغان حکومت کی سرپرستی میں کھلم کھلا اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے اور ہر قسم میڈیا تک انہیں آسان رسائی حاصل ہے۔

افغان طالبان حکومت کی طرف سے اتنے اہتمام کے ساتھ بھارتی یوٹیوبرز کو افغانستان بلا نا اور کالعدم فتنہ الخوارج کے لوگوں کے ساتھ بھی انہیں لنک کرنا اس بات کی دلیل ہے افغان حکومت پاکستانی دشمنی میں ہر حدیں پار کر رہی ہے۔