چترال میں سیلاب کی تباہ کاریاں، 2 افراد جان بحق، درجنوں مکانات، اراضی اور انفراسرٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا

اشتہارات

​چترال (چ،پ)پیر کی سہ پہر لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے ایک شخص جان بحق جبکہ بڑی تعداد میں املاک کو نقصان پہنچا۔

تفصیلا ت کے مطابق چترال کے گاؤں بروز میں گزشتہ روز آنے والے تباہ کن سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی۔ سیلابی ریلے کی زد میں آکر ایک شخص جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا، سیلاب کے باعث چترال پشاور مرکزی شاہراہ پر واقع اسٹیل پل گرنے سے آمدورفت مکمل طور پر معطل ہوگئی ہے۔​

گاؤں بروز کے دو مختلف مقامات (گمبس گول اور بروز گول) میں اچانک سیلابی ریلہ آگیا۔ دوم بروز کا رہائشی مختار احمد، جو گمبس گول پل کے قریب کھڑا سیلاب کا منظر دیکھ رہا تھا، سیلابی ملبے کی زد میں آکر موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔ بعد ازاں اس کی لاش کو اسکیویٹر کی مدد سے نکال کر منگل کے روز سپردِ خاک کر دیا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق گمبس گول میں سیلابی ریلہ پل کے نیچے بلاک ہو کر سڑک پر چڑھ آیا، جس سے وہاں بھگدڑ مچ گئی۔
​سیلاب سے ہونے والے دیگر نقصانات کے مطابق ​بروز گول میں واقع اسٹیل کا پل مکمل طور پر تباہ، جبکہ علاقے میں انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل ہے​ ایک پیٹرول پمپ، آئل ٹینکر، 6 کاریں، 2 مزدہ، 1 سوزوکی، 1 ٹی آر پی، 1 موٹر سائیکل، ایک کارپینٹر ورکشاپ اور متعدد دکانیں سیلاب میں بہہ گئیں یا شدید متاثر ہوئیں، ​ 2 ہوٹل، 1 رہائشی مکان، باغات، کھڑی فصلیں اور جنگلات بھی سیلاب کی زد میں آئے۔

بروز گول کے مقام پر پل بیٹھ جانے سے بڑی تعداد میں گاڑیاں اورغوچ کے راستے سفر شرو ع کیا۔

گہریت گول میں خوفناک سیلاب کی وجہ سے دو گاڑیاں سیلاب برد ہوگئیں جبکہ سیلاب نے دریائے چترال کے بہاؤ کو روک لیا جس کی وجہ سے دریا نے ایک بڑے تالاب کی شکل اختیا ر کرتے ہے کریش پلانٹ اور دیگر تنصیبات کو متاثر کردیا۔

شیشی کوہ نالے میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی اراضی کو سیلاب برد کردیا جبکہ سیلاب کی وجہ سے مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔

لوئر چترال ہی کی وادی کریم آباد میں سیلاب نے ایک درجن کے قریب پلوں کو بہا کر لے گئی ہے جس سے ندی کے آر پار رہنے والوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ ختم ہوگئی ہے۔ اس طرح پرئیت گول میں بھی اونچے درجے کاسیلاب آیا لیکن ندی کے گہرائی میں واقع ہونے سے گاؤں میں سیلابی ریلے داخل نہ ہوسکے جبکہ سیلابی ریلے نے دریائے چترال کی بہاؤ کو کئی گھنٹوں تک روکے رکھا۔

اپر چترال کے گاؤں ریشن سے لے کر مستوج کے نواحی گاؤں پرکوسپ تک تمام چھوٹے بڑے دیہات کے ندی نالوں میں سیلاب آیا جن میں ریشن، زئیت، کوراغ، چرون، بونی، اوی، پرواک، مستوج خاص اور پرکوسپ شامل ہیں۔

پرواک کے مقام پر موسلادھار بارش سے پہاڑی تودے گرنے سے ٹریفک ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند ہونے سے بونی مستوج روڈ 16گھنٹوں تک ہرقسم کی ٹریفک کے لئے بند رہا جس سے دونوں طرف ڈیڑھ سو سے زیادہ گاڑیوں میں مسافر پھسے رہے۔

مسافروں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملبے کو ہٹانے کے لئے ضلعی انتظامیہ نے ہیوی مشینری موبلائیز کرنے کی بجائے ٹریکٹر وں سے کام لینے کی کوشش کی جس سے ٹریفک بحال کرنے میں ذیادہ وقت لگ گیا۔

کوراغ کے قریب واقع پہاڑی سے گزرنے والی سڑک کو دریا میں اونچی سیلاب بہا کر لے گئی جس سے اپر چترال اور لویر چترال کے درمیان سڑک کے لئے رابطہ پیدل کے لئے ممکن نہیں رہا۔