نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کیا ہے؟

اسلام آباد (م ڈ) گذشتہ سال نومبر میں 27ویں آئینی ترمیم کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا ایک نیا عہدہ متعارف کروایا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم ذریعے فوجی کمان کے نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں اور ملک کے جوہری و تزویراتی اثاثوں کی نگرانی کی ذمہ داری، جو پہلے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے پاس تھی، اس نئے عہدے کو منتقل کر دی گئی تھی۔
اسی قانون سازی کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا تھا۔
اس عہدے کا بنیادی تعلق پاکستان کے جوہری اور تزویراتی اثاثوں کی نگرانی اور کمان سے ہے۔
تجزیہ کار اور صحافی ماجد نظامی کے مطابق اس عہدے پر رہتے ہوئے جنرل عامر رضا ایک بااختیار سربراہ ہوں گے جو جوہری اثاثوں کی دیکھ بھال کر رہے ہوں گے اور فوج کو جدید جنگی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔
ان کے مطابق پہلے ان معاملات کی ذمہ داری جوائنٹ چیفس آف سٹاف پر ہوتی تھی۔
قانون کے مطابق کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ جنرل کے رینک کے مساوی ہے اور اس کی ابتدائی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔
27ویں آئینی ترمیم کے مطابق اس عہدے پر تقرری وزیراعظم کرتے ہیں، تاہم اس کے لیے چیف آف آرمی سٹاف، جو بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہیں، کی سفارش لازمی ہو گی۔ اور قانون کے مطابق اس عہدے پر تقرری پاکستانی فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کی جاتی ہے۔
قانون کے تحت کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی ملازمت کی شرائط، مراعات اور اختیارات کا تعین بھی وزیراعظم کریں گے۔
نئی قانون سازی میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی تھی کہ ’قومی سلامتی کے تقاضوں یا ہنگامی حالات کے پیش نظر‘ وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر عہدے دار کو مزید تین سال کے لیے دوبارہ تعینات کیا جا سکتا ہے یا اس کی مدت ملازمت میں تین سال تک توسیع دے سکتے ہیں۔
مزید یہ کہ کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی تقرری، دوبارہ تقرری، مدت ملازمت میں توسیع یا تقرر کرنے والی اتھارٹی کے صوابدیدی اختیار کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔