چترال میں کل جماعتی جلسہ، ملاکنڈ ڈویژن پر وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف متفقہ قرارداد
فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان، امن و امان کی ذمہ داری وفاق پر عائد ہوگی، شرکاء

چترال (بشیرحسین آزاد) چترال کے مقام اتالیق پل پر جمعہ کے روز مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں کے زیرِ اہتمام ایک اہم کل جماعتی جلسہ منعقد ہوا جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن پر انکم ٹیکس سمیت تمام وفاقی ٹیکسوں کے نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے متفقہ طور پر وفاقی ٹیکسوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ عوام پر ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن، بالخصوص چترال، گزشتہ برسوں کے دوران شدید سیلابوں، قدرتی آفات اور دہشت گردی کے اثرات سے بری طرح متاثر رہا ہے، جس کے باعث علاقے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا اور عوام آج بھی مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں نئے وفاقی ٹیکس نافذ کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
جلسے سے سابق ناظم اعلیٰ مغفرت شاہ، جماعت اسلامی کے وجیہہ الدین، جمعیت علمائے اسلام کے مولانا عبدالرحمن، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عید الحسین، مسلم لیگ (ن) کے محمد کوثر، سابق رکن صوبائی اسمبلی سعید احمد خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریف حسین اور انجمن تاجران کے صدر نور احمد خان نے خطاب کیا۔
مقررین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ چترال کے عوام کسی صورت وفاقی ٹیکسوں کو قبول نہیں کریں گے اور ان کے خلاف ہر آئینی و جمہوری فورم پر بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو عوام احتجاج پر مجبور ہوں گے، جس کے نتیجے میں امن و امان کی جو بھی صورتحال پیدا ہوگی، اس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
اجلاس کے اختتام پر اس وقت مختصر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی جب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے پارٹی رہنماؤں کو مبینہ طور پر اظہارخیال کا موقع نہ دینے پر احتجاج کیا۔ بعد ازاں اجلاس اختتام پذیر ہوگیا۔